انوارالعلوم (جلد 12) — Page 307
۳۰۷ مومنوں کیلئے قربانی کا وقت والضراء ۳؎ اے لوگو اپنے رب کی مغفرت کے حصول کے لئے اور اس جنت کے حصول کے لئے جس کی قیمت آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو ان متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو تنگی اور فراخی دونوں حالتوں میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں‘ جلدی سے قدم بڑھاؤ- اسی طرح فرماتا ہے ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصہ ۵؎ انصار کو اللہ تعالیٰ نے یہ فضیلت دی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کاموں کو اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں- خواہ وہ خود تنگ حال ہی کیوں نہ ہوں- پس اصل ایمان یہی ہے کہ انسان مشکلات کے وقت میں بھی اپنی طاقت کے مطابق قربانی کرے کیونکہ اسی وقت تو اس کے امتحان کا وقت آتا ہے ورنہ کشادگی میں تو لوگ تماشوں اور کھیلوں پر بھی بڑی بڑی رقوم خرچ کر دیتے ہیں- میں امید کرتا ہوں کہ اس اعلان کے پہنچتے ہی ہر جگہ کی جماعتیں فوراً اس اعلان کے مطابق تین ماہ میں اپنی ماہوار آمد کا ۳/۱ حصہ برابر تین ماہ تک بیت المال میں بھجوا کر ثواب دارین حاصل کریں گی اور اس امر کی مستحق بنیں گی کہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید قربانیوں کی توفیق عطا فرمائے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی ایک اجر ہے اور ایک قربانی دوسری قربانی کے لئے راستہ کھول دیتی ہے- دعا میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے اس تحریک کو ختم کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے میری بات میں اثر دے اور احباب کے دلوں کو اخلاص اور ایمان سے بھر دے کہ میں جو ان کا امام ہوں اور وہ جو میرے مقتدی ہیں سب کمزور انسان ہیں اور غلطیوں کے شکار- اسی کا فضل ہمیں سلسلہ کے بار عظیم کو اٹھانے کی توفیق دے- اور اسی کے فضل سے ہم حقیقی مومن بننے کے قابل ہونگے- واخردعوانا ان الحمدللہ رب العلمین نوٹ-: ضروری ہے کہ پہلی قسط ہندوستان کی ہر جماعت کی پندرہ تاریخ تک دفتر میں پہنچ جائے اور آئندہ دونوں ماہ میں بھی پندرہ تاریخ تک قسط پہنچ جایا کرے- خاکسار مرزا محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی ۲۳- اگست ۱۹۳۱ء (الفضل ۲۹- اگست ۱۹۳۱ء) ۱؎ العنکبوت : ۳ ۲؎ البقرہ:۱۵۶