انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 306

۳۰۶ مومنوں کیلئے قربانی کا وقت کریں تو سوا لاکھ روپیہ آسانی سے جمع کیا جا سکتا ہے- جس میں سے سولہ ہزار جلسہ سالانہ کا خرچ اور اڑتالیس ہزار تین ماہ کا چندہ نکال کر اکسٹھ ہزار کی رقم قرضوں کی ادائیگی کے لئے بچ جاتی ہے- اگر کوشش کر کے صدر انجمن بعض جائیدادیں فروخت کر دے تو دس پندرہ ہزار روپیہ اس طرح بھی جمع کیا جا سکتا ہے- اور اس طرح کل قرض ادا کیا جا سکتا ہے- باقی رہی وہ کمی جو آمد کی غیر معمولی کمی سے اس سال واقع ہو رہی ہے اس کا تدارک بجٹ میں کمی کر کے کر دینا چاہئے تا کہ آئندہ قرض نہ بڑھے- وہ جو تھک گیا ہمارا دوست نہیں برادران! مجھ سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے بعض دوست چندے دیتے دیتے تھک گئے ہیں میں ان دوستوں کی رائے کو بالکل غلط سمجھتا ہوں- وہ جو تھک گیا وہ ہمارا دوست نہیں- ہم چندہ دے کر خدا تعالیٰ پر احسان نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ ہم پر احسان کرتا ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی اولاد کو وصیت سے آزاد رکھا ہے اس لئے میں وصیت کرنا خلاف شریعت سمجھتا ہوں لیکن اس شکریہ میں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ احسان کیا ہے اوسطاً پانچواں حصہ اپنی آمد کا چندوں اور للہی کاموں میں خرچ کرتا ہوں بلکہ اس سے بھی زیادہ بلکہ میں تو گھر کے خرچ کے لئے جو قرض لیتا ہوں اس میں سے بھی چندہ ادا کرتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم اپنی ضرورتوں کیلئے قرض لیتے ہیں تو خدا تعالیٰ کیلئے قرض کیوں نہ لیں- حق یہی ہے کہ اگر ہم مالی قربانی جو سب سے ادنیٰ قربانی ہے پوری طرح نہیں کر سکتے تو دوسری قربانیاں جو اس سے زیادہ ہیں کب کر سکیں گے- ملازموں کیلئے آسانیاں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دن سخت تنگی کے ہیں لیکن ملازموں کے لئے یہ دن آرام کے بھی ہیں کیونکہ ان کی آمدنیاں وہی اور اخراجات بوجہ ارزانی کے کم ہو گئے ہیں- پس اس طبقہ کو خصوصاً سلسلہ کی مالی خدمات میں پہلے سے زیادہ حصہ لینا چاہئے- زمینداروں اور تاجروں سے لیکن زمینداروں اور تاجروں کو بھی یہ نہیں خیال کرنا چاہئے کہ وہ تنگی میں ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کے حضور میں وہ بری ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وسارعوا الی مغفرة من ربکم وجنة غرضھا السموت والارض اعدت للمتقین- الذین ینفقون فی السراء