انوارالعلوم (جلد 12) — Page 305
انوار العلوم جلد ۱۴ ۳۰۵ مومنوں کیلئے قربانی کا وقت چیزیں اُدھار خریدیں اور ان کی رقم ادا نہیں کی اور کچھ سلسلہ کے کارکنوں کا ہے جن کو قریباً چار ماہ سے تنخواہ نہیں ملی۔ اور مختلف مدات کا قرض نہیں جیسا کہ بعض دوستوں کا خیال ہے۔ اس سال زمینداروں کی آمد کم ہونے کے سبب سے آمد اور بھی کم ہو رہی ہے اور شاید سال کے آخر تک یہ قرض ایک لاکھ روپیہ تک پہنچ جائے اور اس صورت میں یہ یقینی امر ہے کہ سلسلہ کا سب کام رک جائے گا اور ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے حضور میں ایک بہت بڑی جوابدہی کے نیچے آجائے گی اور بجائے ثواب کے خدانخواستہ عذاب کی مستحق بن جائے گی۔ پس ان حالات کو دیکھتے ہوئے دیکھتے ہوئے اور آئندہ خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ماہ کی آمد دو ہمارا اہم فرض ہے کہ اس سال اس قرض کو ادا کر دیں تاکہ آئندہ اس کی ادائیگی نا ممکن نہ ہو جائے اور اس کے لئے میں نے یہ تجویز کی ہے کہ اس سال پھر جماعت کے تمام افراد اپنی ایک ماہ کی آمد سلسلہ کی ضروریات کے لئے دے دیں اور وہ اس طرح کہ ۱/۳ اپنی آمد کا ستمبر اکتوبر اور نومبر میں ادا کر دیں اور جو ہندوستان سے باہر کے دوست ہیں وہ اکتوبر سے دسمبر تک اس رقم کو ادا کر دیں۔ اس سے پہلے بھی ایک دو موقعوں پر احباب سے ایک ماہ کی تنخواہ کا مطالبہ کیا ایک رعایت گیا ہے لیکن اس دفعہ میں ایک اور رعایت بھی کرتا ہوں اور وہ یہ کہ اس چندہ خاص میں تین ماہ کا چندہ ماہواری یا چندہ وصیت اور چندہ جلسہ سالانہ بھی شامل سمجھا جائے۔ گویا ایک ماہ کی آمد ادا کرنے کے ساتھ ہی تین ماہ کا چندہ اور چندہ جلسہ سالانہ بھی ادا سمجھا جائے۔ کسی قدر روپیہ آسانی سے جمع ہو سکتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری ہے جماعت بہت غریب ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر جماعت کے تمام احباب نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ اس رقم کو ادا کریں تو دو سے تین لاکھ تک کی رقم آسانی سے جمع ہو سکتی ہے جس سے قرض بھی اتر سکتا ہے اور جلسہ سالانہ اور ماہواری اخراجات بھی ادا ہو سکتے ہیں بلکہ کچھ رقم پس انداز بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن چونکہ ہر جماعت میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور معذور بھی اور پھر کئی لوگ اس طرح پراگندہ ہیں کہ ان سے چندہ وصول کرنا مشکل ہے اور کئی جماعتیں اور افراد نتے ہیں کہ ان پر ایسے بوجھ کو باصرار نہیں ڈالا جا سکتا اس لئے یہ سمجھنا چاہئے کہ اگر احباب اخلاص سے کوشش