انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxv of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page xxxv

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۶ تعارف کتب تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے قادیان میں بعض لوگوں کی مخالفت کے باوجود مذبح خانہ بننے کا ذکر فرمایا اور پھر قادیان میں مکان تعمیر کرنے کی اہمیت واضح کی نیز اقتصادی ۔ ترقی کیلئے بعض سکیموں کا ذکر فرمایا۔ اس تقریر میں ایک نہایت اہم امر جس کی طرف آپ نے جماعت کے دوستوں کو خاص توجہ دلائی وہ مسلمانانِ کشمیر کی امداد کا کام تھا۔ فرمایا کہ کشمیر میں مسلمانوں کی حالت نہایت دردناک ہے اس لئے جماعت کو ان کی امداد اس وقت تک جاری رکھنی چاہئے جب تک ان کو ان کے حقوق حاصل نہیں ہو جاتے ۔ (۲۱) فضائل القرآن نمبر ۴ حضرت خلیفہ امسیح الثانی کا یہ دستور تھا کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک دن کسی خاص علمی موضوع پر تقریر فرمایا کرتے تھے ۔ ۱۹۲۸ء کے جلسہ سالانہ پر آپ نے فضائل القرآن“ کے نہ پر آپ نے فضائل القرآن کے عنوان سے تقاریر کا ایک نہایت اہم سلسلہ شروع فرمایا جو کئی سال تک جاری رہا۔ ان تقریروں میں حضور نے قرآن مجید کے علوم و معارف اور انوار و محاسن ایسے فصیح انداز میں بیان کئے ہیں کہ پڑھنے کے ساتھ ہی قاری پر قرآن کریم کی فضیلت آشکار ہو جاتی ہے۔ حضور نے دوسرے مذاہب کی الہامی کتب پر قرآنی فضیلت ثابت کرنے کیلئے زبردست دلائل دیئے ہیں بعض مشکل ست دلائل دیتے ہیں بعض منا آیات اور مقامات کا حل نہایت خوبی اور نفاست سے پیش کیا نیز قرآن مجید پر مستشرقین کے اعتراضات کا مؤثر طور پر جواب دیا ہے۔ قرآن مجید کی اس خدمت کے سلسلہ میں حضور کو یہ خاص امتیاز حاصل ہے کہ آپ نے قرآنی فضیلت ثابت کرنے کیلئے نہ صرف متعدد دلائل دیئے بلکہ عملی طور پر مخالفین کو چیلنج دیا کہ وہ مقابلہ پر آکر اپنی کتب کا موازنہ کرلیں ۔ آپ نے فرمایا :۔ قرآن کریم کو وہ عظمت حاصل ہے جو دنیا کی کسی اور کتاب کو حاصل نہیں اور اگر کسی کا یہ دعوئی ہو کہ اس کی مذہبی کتاب بھی اس فضیلت کی حامل ہے تو میں چیلنج دیتا ہوں کہ وہ میرے سامنے آئے ۔ اگر کوئی وید کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے ۔ اگر کوئی تو ریت کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے ۔ اگر کوئی انجیل کا پیرو ہے تو وہ