انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 294

۲۹۴ ایک جواب سید صاحب نے یہ دیا ہے کہ احادیث میں صرف یہ ذکر ہے- کہ حضرت علیؓ‘ حضرت فاطمہؓ اور حسنؓ اور حسینؓ کو لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مباہلہ کیلئے نکلے تھے- مجھے ان احادیث سے انکار نہیں- میں تو یہ کہتا ہوں کہ ساتھ ہی احادیث میں آتا ہے- ھولاء اھلی ۲۰؎ یہ میرے اہل ہیں نہ یہ کہ ہمارے اہل ہیں- پس ہم تو کہتے ہیں کہ مباہلہ ہوا نہیں- اگر مباہلہ ہوتا اور دوسرے صحابہ اور ان کے اہل شامل نہ ہوتے تب ان احادیث سے استدلال ہو سکتا تھا- مگر مباہلہ تو ہوا نہیں‘ پھر استدلال کس طرح ہوا- اس وقت تک تو وفد بخران نے مباہلہ قبول کرنے کا اعلان ہی نہ کیا تھا- ہم کہتے ہیں اگر وفد بخران مباہلہ کو مان لیتا تو دوسرے لوگوں کو بھی آپﷺ بموجب حکم آیت جمع ہونے کا حکم دیتے- آپﷺ اس خیال سے کہ دوبارہ گھر نہ جانا پڑے اپنے اہل کو لے کر تشریف لے گئے- دوسرا جواب یہ ہے کہ آپﷺ خود بھی اس حدیث کا یہ مفہوم نہیں تسلیم کرتے کہ ان لوگوں کے سوا دوسرے لوگ مباہلہ میں شامل نہ ہونے تھے کیونکہ آپ نے خود اس آیت کی تفسیر اہل وعیال کی ہے جو بیویوں پر مشتمل ہے- دوسرے آیت قرآنی میں نساء کا لفظ ہے- اور نساء کا لفظ اگر محدود کیا جائے تو اول اس میں بیویوں کا مفہوم ہوتا ہے- قرآن کریم میں آتا ہے- یا نساء النبی ۲۱؎ جس جگہ صرف بیویاں مراد ہو سکتی ہیں- پس آیت مباہلہ میں نساء نا کے لفظ کے ماتحت بیویوں کی شمولیت لازم ہے اور احادیث میں بیویوں کا ذکر نہیں- جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں وہ سب تعداد جس نے مباہلہ میں شامل ہونا تھا مذکور نہیں ہے- سید صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ میری نقل کردہ روایت جس میں دوسرے صحابہ کی شمولیت کا ذکر ہے ضعیف ہے اور حوالہ کنزالعمال صفحہ ۸‘۹ کا دیا ہے- سید صاحب نے افسوس تو مجھ پر کیا ہے کہ میں نے ایک ضعیف حدیث کو نقل کیا ہے لیکن افسوس درحقیقت ان پر ہے- کیونکہ کنز العمال میں یہ نہیں لکھا کہ یہ حدیث ضعیف ہے بلکہ یہ لکھا ہے کہ علامہ سیوطی کہتے ہیں کہ فلاں فلاں کتاب جن میں سے تاریخ ابن عساکر بھی ہے‘ ان کی روایات ضعیف ہیں-۲۲؎ اس کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ علامہ سیوطی کے نزدیک اس کتاب میں احتیاط سے کام نہیں لیا گیا لیکن اس کے یہ معنی تو نہیں کہ اس میں کوئی حدیث بھی درست نہیں- اس میں کئی احادیث ایسی ہیں جو صحاح ستہ میں ہیں بلکہ صحیحین میں بھی موجود ہیں اور بہت سی حدیثوں پر مسلمان عمل کرتے چلے آئے ہیں- محض کسی شخص کے کسی کتاب کو ضعیف کہہ