انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 293

۲۹۳ میں پھر کہتا ہوں کہ کسی قاعدہ کا ہونا اور بات ہے اور اس کا کسی خاص جگہ پر چسپاں ہونا اور بات ہے- کیا اس قاعدہ کے مطابق ہم قرآن کریم کی تمام ضمائر کو مشاکلت کے ماتحت مفرد سے جمع اور جمع سے مفرد بنا سکتے ہیں؟ آخر استثنائی قاعدہ کو چسپاں کرنے کی بھی تو کوئی وجہ ہونی چاہئے- جب الفاظ آیت سے ثابت ہے کہ اس جگہ ضمائر اپنے اصلی مفہوم میں ہیں تو سید صاحب کا بیان کردہ مشاکلت کا قاعدہ بھی یہاں چسپاں نہیں ہو سکتا- جب آیت ہی دوسرے معنوں کو رد کر رہی ہے تو خلاف منطوق معنی کرنے جائز ہی نہیں ہو سکتے- یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس آیت میں دو صیغے دو جماعتوں کے لئے استعمال ہوئے ہیں ایک ‘’قل’‘ رسول کریم ﷺ کے لئے اور ایک ‘’تعالوا’‘ آپ کے مخالفوں کے لئے اب مشاکلت کا قاعدہ اگر سید صاحب کے بیان کے مطابق ہی سمجھا جائے تو بھی چاہئے تھا کہ جو ضمائر رسول کریم ﷺ کے متعلق آتیں‘ مفرد آتیں‘ کیونکہ پہلا لفظ مفرد تھا- واحد سے مشاکلت جمع کو کس طرح ہو سکتی ہے- اور اگر سید صاحب یہ کہیں کہ چونکہ ابناء اور نساء کا لفظ جمع ہے- اس لئے نا آیا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ انفس کیوں جمع آیا اس صورت میں تو یہ ماننا پڑے گا کہ انفس اس لئے جمع آیا کہ نساء کا لفظ جمع تھا اور نا اس لئے جمع آیا کہ انفس جمع تھا- گویا پہلے ایک لفظ کو مشاکلت سے جمع کیا‘ پھر اس کے مضاف الیہ کو اس کی مشاکلت کی وجہ سے جمع کیا- اب اس فرضی جواب کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مشاکلت کا قاعدہ عربی زبان میں اس طرح نہیں جس طرح سید صاحب نے ذکر کیا ہے- مشاکلت کی تعریف علم البدیع والوں نے یہ کی ہے- کہ ذکر الشی بلفظ غیرہ لوقوعہ بصحبہ ذالک الغیر ولو تقدیرا-۱۹؎ یعنی کسی چیز کے لئے بجائے اصل لفظ کے دوسرا لفظ استعمال کریں اس لئے کہ وہ چیز ایک اور چیز کے پاس واقع ہوتی ہے- پس اس دوسری چیز کی مناسبت سے اس کا نام بدل دیا گیا- مثال یہ دی ہے کہ قلت اطبخوالی جبتہ وقمیصا- میں نے کہا- میرے لئے ایک جبہ اور ایک قمیض پکا دو- جبہ اور قمیض پکائے نہیں جاتے- چونکہ پہلے شخص نے کہا تھا کہ ہم تیرے لئے کیا پکائیں اس کو لباس کی ضرورت تھی اس نے کہا کہ جبہ اور قمیض پکا دو- یعنی مجھے کپڑے کی ضرورت ہے- اس تعریف سے ظاہر ہے کہ ضمائر کے بدلنے کا مشاکلت سے کوئی تعلق نہیں- مشاکلہ تو یہ ہے کہ ایک بات کو زیادہ موثر بنانے کے لئے ایک پاس کے لفظ کے مطابق ایک دوسرا لفظ استعمال کر لیا جائے-