انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 292

۲۹۲ ہے- اس لئے نا کی ضمیر میں مخاطب شامل نہیں اور نہ بچے بیویاں شامل ہیں- کیونکہ انہیں ابناء اور نساء کے الفاظ سے الگ بیان کر دیا ہے- پس بہرحال نا جو جمع کی ضمیر ہے- اس سے یہ معنی لینے ہوں گے کہ دعوت مباہلہ دینے والی بھی ایک جماعت ہے اگر وہ جماعت نہ ہو تو نا بے معنی ہو جاتا ہے- اگر یہ کہو کہ رسول کریم ﷺ بوجہ عظمت شان اپنے لئے جمع کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو یہ بھی درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا یہ محاروہ کسی انسان کے متعلق قرآن کریم میں کبھی نہیں آیا اور نہ یہ رسول کریم ﷺ کا طریق تھا کہ وہ اپنے آپ کو ‘’ہم’‘ کہہ کر بلایا کرتے ہوں اور پھر جب یہ حکم سب زمانوں کے لئے تھا تو اگلے لوگ جو اس شان کے نہ تھے اس آیت پر کس طرح عمل کریں گے- سید صاحب یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ کبھی مفرد کی جگہ جمع کا لفظ استعمال کر لیتے ہیں- جیسا کہ آیت کریمہ الذین قال ھم الناس ان الناس قد جمعوالکم ۱۸؎ میں صرف ایک شخص کہنے والا تھا لیکن جمع کا لفظ استعمال کیا گیا- اس میں کوئی شک نہیں کہ کبھی روایت میں ایک شخص کی جگہ جمع کا لفظ بغرض ابہام استعمال کر لیتے ہیں- مثلاً ایک شخص بات کہے تو کہہ دیتے ہیں بعض لوگ یوں کہتے ہیں- لیکن احکام اور روایات میں فرق ہے- روایت میں اس موقع پر ابہام پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے اور احکام میں وضاحت ہمیشہ مقصود ہوتی ہے- اگر وہاں اس طریق کو استعمال کیا جائے تو شریعت میں نقص لازم آتا ہے- نیز سید صاحب کو یاد رکھنا چاہئے کہ ‘’ہو سکتا ہے’‘ اور’’ ہے’‘ میں فرق ہے بے شک مفرد کی جگہ جمع کا صیغہ استعمال ہو سکتاہے- لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا اس آیت میں بھی ایسا ہے- مگر جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں‘ اس آیت کی بناوٹ بتا رہی ہے کہ یہاں ایسا نہیں ہے‘ تو پھر ‘’ہو سکتا ہے’‘ کا قاعدہ یہاں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا- سورہ آل عمران کی مذکورہ بالا آیت کے متعلق بھی سید صاحب کو یاد رہے کہ اس کے بارہ میں بھی احادیت میں اختلاف ہے- بہت سی احادیث میں ایک سے زائد لوگوں کا یہ بات کہنا ثابت ہے- چنانچہ ابن سعید بروایت ابن ایزی اور ابن جریر بروایت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک سے زائد لوگوں نے یہ بات کہی تھی وغیرہ ایک جواب سید صاحب نے یہ دیا ہے کہ عربی کا قاعدہ ہے کہ مشاکلت کی وجہ سے بھی ایک کی جگہ دوسرا صیغہ استعمال کر دیتے ہیں- اس امر کو فرض کر کے کہ یہ قاعدہ اسی طرح ہے