انوارالعلوم (جلد 12) — Page 289
۲۸۹ سے اس بات پر مباہلہ کریں گے کہ وہ لوگ اس عاجز کو کافر اور دجال اور بے دین اور دشمن اللہ جلّشانہ اور رسول اللہ ﷺ کا سمجھتے ہیں’‘- ۱۳؎ اس سے ظاہر ہے کہ آپ کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ اس وقت ایک جماعت علماء کی مولوی عبدالحق صاحب کے ساتھ ہوگی- اب رہا یہ سوال کہ آپ نے جو مقابلہ مولوی عبدالحق صاحب سے کیا وہ کیا مباہلہ نہ تھا- تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مسنون مباہلہ نہ تھا بلکہ ایک دعا برنگ مباہلہ تھی- چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو الفاظ اس دعا کے اس مقابلہ کے ہونے سے بھی پہلے شائع کئے تھے وہ یہ ہیں-: ‘’میں یہ دعا کروں گا کہ جس قدر میری تالیفات ہیں ان میں سے کوئی بھی خدا اور رسول ﷺ کے فرمودہ کے مخالف نہیں ہیں- اور نہ میں کافر ہوں اور اگر میری کتابیں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ سے مخالف اور کفر سے بھری ہوئی ہیں‘ تو خدا تعالیٰ وہ لعنت اور عذاب میرے پر نازل کرے جو ابتدائے دنیا سے آج تک کسی کافر بے ایمان پر نہ کی ہو’‘-۱۴؎ اس دعا کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ آپ نے مولوی عبدالحق صاحب کے لئے یا جو جھوٹا ہو‘ اس کے لئے بددعا کا اعلان نہیں کیا بلکہ صرف اپنے جھوٹا ہونے کی صورت میں اپنے لئے بددعا کرنے کا اعلان کیا تھا- یہ تو قبل از وقت کا اعلان تھا جو عملاً ہوا- اس کی حقیقت ‘’حقیقہالوحی’‘ کے اس حوالہ سے ظاہر ہے- حضور فرماتے ہیں-: ‘’بہرحال مباہلہ میں جو اس نے چاہا کہا- مگر میری دعا کا مرجع میرا ہی نفس تھا اور میں جناب الہی میں بھی التجا کر رہا تھا کہ اگر میں کاذب ہوں تو کاذبوں کی طرح تباہ کیا جاؤں اور اگر میں صادق ہوں تو خدا میری مدد اور نصرت کرے’‘-۱۵؎ ان حوالہ جات سے ثابت ہے کہ حقیقی اور مسنون مباہلہ مولوی عبدالحق صاحب سے نہیں ہوا بلکہ مولوی صاحب کے ضد کرنے پر ایک دعا برنگ مباہلہ کی گئی یعنی گو دونوں فریق ایک مقام پر جمع ہوئے لیکن بد دعا صرف ایک فریق کے لئے ہوئی- دونوں نے آپس میں ایک دوسرے کے خلاف یا جو جھوٹا ہو اس کے خلاف بد دعا نہیں کی- یہ امر کہ اس قسم کی دعا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک حقیقی اور مسنون مباہلہ نہیں‘ آپﷺ کے ایک اور قول سے جو رسالہ اربعین میں ہے‘ بالکل واضع ہو جاتا