انوارالعلوم (جلد 12) — Page 287
۲۸۷ آتی ہیں ان کا مضمون بھی سورہ آل عمران کی ابتدائی آیات کے بالکل مطابق ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مباحثہ کا بیشتر حصہ ان آیات کے نزول کے بعد واقع ہوا ہے- الغرض احادیث سے یہ ہر گز ثابت نہیں کہ آیت مباہلہ کے نزول کے بعد مباحثہ واقع نہیں ہوا- بلکہ جیسا کہ اوپر میں نے لکھا ہے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان آیات کے نزول کے بعد مباحثہ ہوتا رہا- یہ آیات پہلے دن نازل ہوئیں اور مباہلہ کا چیلنج دوسرے دن شام کو دیا گیا ہے- اور اگر یہ تسلیم بھی کیا جائے کہ ان آیات کے بعد مباحثہ نہیں ہوا تب بھی یہ امر یقیناً ثابت ہے کہ مباہلہ سے معاً پہلے وفد نجران سے مباحثہ ہوا- پس اس امر کو تسلیم کر کے بھی نتیجہ یہی نکلے گا کہ مباہلہ سے پہلے مباحثہ ضروری ہے اور نیز یہ نتیجہ نکلے گا کہ چونکہ مباحثہ ہو رہا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب کافی مباحثہ ہو چکا ہے اب مباہلہ کرو- اور آئندہ کے لئے یہی حکم سمجھنا پڑے گا کہ جس وقت دو فریق میں مباحثہ کے باوجود فیصلہ نہ ہو سکے تو اس کے معاً بعد مباہلہ ہونا چاہئے- بانی سلسلہ احمدیہ کا مولوی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ سید صاحب نے لکھا ہے کہ اگر مباہلہ سے پہلے مباحثہ ضروری ہے تو بانی سلسلہ احمدیہ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے کیوں مولوی عبدالحق صاحب غزنوی سے مباہلہ سے پہلے مباحثہ نہ کیا- سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس بارہ میں جو میرا عقیدہ ہے وہی بانی سلسلہ احمدیہ کا تھا- چنانچہ آپ ‘’ازالہ اوہام’‘ میں مولوی عبدالحق صاحب کا ذکر کر کے تحریر فرماتے ہیں-: ‘’مباہلہ میں یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اول ازالہ شبہات کیا جائے- بجز اس صورت کے کاذب قرار دینے میں کوئی تامل اور شبہ کی جگہ باقی نہ ہو- لیکن میاں عبدالحق بحث مباحثہ کا تو نام تک بھی نہیں لیتے’‘-۱۰؎ شبہ اور تامل کے ازالہ کی تعریف بھی آپ نے خود ہی کر دی ہے اور وہ یہ کہ جب الہام الہی سے کسی سوال کی حقیقت معلوم ہو جائے- چنانچہ اشتہار مباہلہ بمقابل مولوی عبدالحق صاحب مورخہ ۱۲- اپریل ۱۸۹۱ء میں آپ نے اس امر کو بیان فرمایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے الہام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسیح علیہ السلام کی حقیقت سے آگاہ کر دیا تب مباہلہ کا چیلنج دیا-