انوارالعلوم (جلد 12) — Page 280
۲۸۰ علامہ ابوحیان اپنی تفسیر ‘’بحر محیط’‘ میں تحریر فرماتے ہیں-قال قوم المباھلہ کانت علیہ وعلی المسلمین بدلیل ظاھر قولہ ندع ابناء نا وابناء کم ۳؎پس عربی زبان کے محاورے کے مطابق آیت مباہلہ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ایک جماعت کا مباہلہ دوسری جماعت سے ہو- آپ یہ نہیں فرما سکتے کہ جمع کے الفاظ بیٹوں اور بیٹیوں کی شمولیت کی وجہ سے ہیں- یا یہ کہ دوسرے فریق کی شمولیت کی بناء پر ہیں کیونکہ انفسنا و انفسکم سے پہلے بیٹے بیٹیوں کا ذکر ہو چکا ہے اس لئے وہ ان الفاظ میں شامل نہیں- اور دوسرا فریق بھی انفسنا میں شامل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا ذکر انفسکم میں علیحدہ کیا گیا ہے- سید صاحب موصوف کو یاد رکھنا چاہئے کہ تمام احادیث اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کو مباہلہ کے لئے بلایا تھا وہ کوئی ایک شخص نہ تھا بلکہ وہ ایک جماعت تھی مختلف حدیثوں اور تاریخوں سے ان لوگوں کی تعداد ساٹھ سے ستر تک ثابت ہوتی ہے- اور جہاں تک میرا حافظہ کام دیتا ہے ایک حدیث بھی ایسی نہیں جس میں صرف کسی ایک شخص کو مباہلہ کے لئے بلانے کا ذکر ہو بلکہ تمام احادیث میں جماعت کو ہی بلانے کا ذکر ہے- اب رہا یہ سوال کہ حضرت رسول کریم ﷺ اکیلے ہی مباہلہ کے لئے نکلے تھے- سو اگر اسے تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس کی وجہ ظاہر ہے کہ جس طرح رسول تمام امت کی طرف سے کھڑا ہو سکتا ہے اسی طرح کوئی اور شخص کھڑا ہونے کا حق دار نہیں- لیکن احادیث اور تاریخ پر نگاہ ڈالنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ خیال درست نہیں کہ آنحضرت ﷺ اکیلے مباہلہ کے لئے نکلے تھے- آپ فرماتے ہیں کہ ہر صاحب علم جانتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ ایک صحابی بھی نہیں نکلا تھا حالانکہ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ حضرت علیؓ بھی آپ کے ساتھ تھے- اور ابن عساکر کی ایک روایت ہے جاء بابی بکر و ولدہ و بعمر و ولدہ و بعثمان و ولدہ وبعلی و ولدہ ۴؎یعنی حضرت رسول کریم ﷺ ‘ حضرت ابوبکر صدیق اور ان کی اولاد- حضرت عمر اور ان کی اولاد- حضرت عثمان اور ان کی اولاد اور حضرت علی اور ان کی اولاد رضی اللہ عنھم کو اپنے ساتھ لے کر نکلے تھے- لیکن اسی پر بس نہیں‘ علامہ ابو حیان ایک جماعت مسلمین کا قول تحریر فرماتے ہیں کہ لو عزم نصاری نجران علی المباھلہ