انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 279

۲۷۹ درمیان ایک پردہ ہوتا- یعنی انہوں نے بحث کو اس کی حدود سے بھی آگے گزار دیا تھا اور کج بخشی پر اتر آئے تھے- کیا بیس سالہ نزول و اشاعت قرآن کریم کے بعد کافی نہ تھا کہ آپ اس بحث میں نہ پڑتے اور فوراً مباہلہ کا چیلنج دے دیتے؟ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے اور وہ چاہتا ہے کہ آخری وقت تک فریق مخالف پر حجت تمام کی جائے اور مباہلہ کے وقت تک اسے موقع دیا جائے کہ وہ دلائل رحمت کو مان لے اور دلائل عقلیہ کا طالب نہ ہو- پس یہ مسنون طریق کسی صورت سے چھوڑا نہیں جا سکتا- اگر سید محمد شریف صاحب اپنی طرف سے حجت کو تمام شدہ سمجھتے ہیں تو میری طرف سے ان کو اجازت ہے کہ وہ تقریر نہ کریں- میں اپنے عقیدے کی رو سے مجبور ہوں کہ مباہلہ سے پہلے اپنے عقائد اور دلائل بیان کر دوں تا کہ اس وقت بھی اگر کوئی شخص مباہلہ سے ہٹنا چاہے تو ہٹ جائے اور مباہلہ سے بچ جائے- دوسری بات انہوں نے یہ لکھی ہے کہ میں ایک ہزار آدمی سے بھی زیادہ مباہلہ کے لئے اپنے ہمراہ لا سکتا ہوں لیکن چونکہ آیت قرآنیہ فقل تعالوا ندع ابناء نا وابناء نا و نساء کم و نساء کم وانفسنا و انفسکم ۲؎ سے ثابت ہے کہ دوسرے لوگ ساتھ نہ تھے‘ اس لئے میں قرآنی مباہلہ تبدیل نہیں کر سکتا- سید صاحب موصوف یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ کسی صاحب علم سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ باوجود ایک لاکھ صحابہ کی موجودگی کے حضرت رسول کریم ﷺ نے ایک صحابی کو بھی ساتھ نہیں لیا تھا- مجھے تعجب ہے کہ باوجود آیت قرآنیہ کے نقل کر دینے کے پھر بھی سید صاحب موصوف کا خیال ہے کہ مباہلہ میں حضرت رسول کریم ﷺ کے ساتھ اور کوئی شخص نہ تھا- سید صاحب نے اپنے پہلے اشتہار میں اس آیت کا ترجمہ خود ہی یوں کیا ہے-: ‘’ہم اپنی جانوں کو بلائیں تم اپنی جانوں کو بلاؤ’‘ میں پوچھتا ہوں کہ ‘’ہم’‘ اور ‘’تم’‘ کون ہیں- جن کی ایک ایک سے زیادہ جانیں ہیں؟ بیٹوں‘ بیٹیوں اور بیویوں کا ذکر تو پہلے آ چکا تھا- اب یہ انفسنا وانفسکم سے مراد کون لوگ ہیں؟ جب وہ خود اپنے ترجمہ میں اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ ایک جماعت دوسری جماعت سے مباہلہ کرتی ہے تو اب وہ کس طرح اس بات کا انکار کر سکتے ہیں؟ ہر شخص جو عربی زبان سے ذرہ بھی مس رکھتا ہے- وہ جانتا ہے کہ اس آیت میں جماعت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے- چنانچہ