انوارالعلوم (جلد 12) — Page xxxi
تعارف کتب ۲۲ انوار العلوم جلد ۱۳ سے ہی ایک انسان ہے۔ اس لئے وہ تمہارے لئے اچھا نمونہ ہو سکتا ہے۔ انبیاء کے آنے کی یہی غرض ہوتی ہے کہ وہ دنیا کی راہنمائی کریں اور اچھا نمونہ پیش کریں ۔ ظاہر ہے کہ اگر نمونہ بنے والا ان حالات اور مشکلات سے نہیں گزرا جن سے عام انسانوں کا واسطہ پڑتا ہے تو وہ اچھا نمونہ نہیں ہو سکتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ ہر قسم کے حالات سے گزرے اس ۔ سے گزرے اس لئے آپ لوگوں کیلئے کامل نمونہ ہیں ۔ ۔ آپ کے تیسرے امتیازی وصف کا ذکر عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُم میں کیا گیا ہے کہ تمہاری تکلیف اس پر گراں گزرتی ہے۔ فرمایا کہ عزیز میں صرف شاق کا یہی مفہوم نہیں بلکہ یہ عزت سے نکلا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تمہیں بڑی چیز دیکھنا چاہتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ صرف اپنے لوگوں کی تکلیف شاق گزرتی تھی بلکہ غیر قوموں کی تکالیف دور کرنے کا بھی آپ کو بہت خیال رہتا تھا ۔ ۴۔ آپ کا چوتھا امتیاز حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ میں بیان ہوا ہے۔ ہے۔ یعنی یہ رسول تمہاری بہتری اور بھلائی کیلئے حریص ہے ۔ ہر حالت میں تمہاری خیر اور ترقی چاہتا ہے آپ کی تعلیم میں ہر انسان اور اس کی ہر حالت کا علاج موجود ہے۔ ۵ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پانچواں وصف بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی وہ مومنوں کے ساتھ رافت کا سلوک کرتا رتا ہے۔ خود ان کی خدمت کرتا ہے۔ ان پر احسان کر کے خود ممنون ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس بلند مقام پر وہی شخص کھڑا ہو سکتا ہے جو خود بڑائی کی خواہش نہ رکھتا ہو بلکہ رسول ہونے کی وجہ سے مجبور کر کے اس مقام پر کھڑا کیا گیا ہو ۔ (۱۷) چھوٹے اور بڑے سب مل کر کام کرو ا۔ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے لاہور میں قیام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لجنہ اماءاللہ مرگ لاہور نے مؤرخہ ۱۵ نومبر ۱۹۳۱ء کو ایک تقریب میں آپ کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا۔ اس کو کے جواب میں حضور نے انہیں نصیحت فرمائی کہ نیک کام جاری رکھنا چاہئے کچھ دیر کر کے چھوڑ نہیں XXXXXXXXXXXXXXXXXXXX XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX