انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 255

۲۵۵ زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کا حل بائیکاٹ دو دھاری تلوار ہے یہ تو عارضی اسباب میں سے بعض ہیں جو اس وقت ہندوستان کی حالت کو خراب کر رہے ہیں- چونکہ بائیکاٹ ایک سیاسی سوال ہے میں اس کے متعلق زیادہ تفصیل سے کچھ نہیں کہنا چاہتا- صرف اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ پچھلے سال جاپان کی اقتصادی حالت بھی بہت خراب ہو گئی تھی اور وہاں کے باشندوں میں سے ایک حصہ نے زور دینا شروع کیا تھا کہ باہر کے ممالک کی چیزیں خریدنی بند کر دی جائیں اس طرح ہمارا روپیہ محفوظ رہے گا- لیکن جاپانی وزیر مالیہ نے جن کے حب وطن کے جذبہ پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا اور جو جاپانی ہی ہیں غیر ملکی نہیں‘ ان لوگوں کے جواب میں یہ کہا تھا کہ بائیکاٹ دو دھاری تلوار ہوتی ہے- وہ انہی لوگوں کو نہیں کاٹتی جن کے خلاف تم اسے چلاتے ہو بلکہ ساتھ ہی تمہارا نقصان بھی کرتی ہے- اور یہ جواب نہایت ہی صحیح ہے- پس یہ میں نہیں کہتا کہ سودا خریدا جائے یا نہ خریدا جائے- لیکن میں اس قدر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر ہم غیر ملکی سودا خریدنے کی لئے تیار نہیں تو ہمیں اس بات کے لئے بھی تیار ہو جانا چاہئے کہ ہماری اجناس کے خریدار بھی ضرور کم ہو جائیں گے- پس اگر ہم غیر ملکی چیزوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر دیں تو ہمیں ایک عرصہ تک زمینداروں کی اقتصادی حالت کے بگڑے رہنے کو بھی قبول کر لینا چاہئے- دوسرا موجب جو اجناس کی زیادتی کا ہے اس کے ایک حصے کا تو ہمارے پاس کوئی علاج نہیں- یعنی ممالک جو اپنی ضرورتوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے ملک میں پورا کرنا چاہتے ہیں ان کو ہم اس فعل سے نہیں روک سکتے- کیا روسی حکومت کا طریق اختیار کیا جائے ہاں روسی حکومت کا فعل سرا سر اور محض سیاسی اغراض سے وابستہ ہے- اس کا علاج دو ہی طرح ہو سکتا ہے- یا تو یہ کہ دوسرے ممالک کے لوگ بھی روسی انتظام کو قبول کریں- یعنی سب زمیندار اپنے حقوق ملکیت ترک کر دیں- زمین کو نئے سرے سے برابر حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور کاشت کا اختیار زمینداروں کے قبضہ میں نہ رہے بلکہ حکومت کے ہاتھ میں ہو- حکومت جس چیز کی چاہے کاشت کرائے اور زمینداروں کو کھانا کپڑا دینے کی ذمہ وار ہو- ممکن ہے کہ ان ممالک کے لوگ جہاں کی زمین صرف چند بڑے بڑے زمینداروں کے قبضے میں ہے اس قسم کی تبدیلی کو ماننے کے لئے تیار ہو جائیں لیکن پنجاب جس کی زمینیں