انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 253

انوار العلوم جلد ۱۲ ۲۵۳ زمینداروں کی اقتصادی مشکلات ناحل خرید نا کم کر دیا اور اس طرح گاہکوں میں کمی آگئی اور غلے اور کپاس کو نقصان پہنچا۔ کھانے والے اب بھی وہی موجود ہیں۔ دنیا کی آبادی کم نہیں ہو گئی۔ فرق یہ پڑا ہے کہ وہ انگلستان جو پہلے ہندوستان سے زیادہ مال خرید تا تھا اب وہ آسٹریلیا، کینیڈا اور دوسری امریکن حکومتوں سے مال خریدتا ہے کیونکہ وہ ملک باہمی سمجھوتے کے ماتحت انگلستان سے مال خریدتے ہیں اور جبکہ انگلستان کی ضرورتیں ان ملکوں سے پوری ہو جاتی ہیں تو اسے ہندوستان سے پہلے کے برابر اجناس خریدنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ دوسرا نقصان ہندوستان کی اقتصادی حالت کو اجناس کی زیادتی کی وجہ سے نقصان اجناس کی زیادتی کی وجہ سے ہوا اس کے دو اسباب ہیں۔ اول یہ کہ جب جنگ عظیم کے دوران میں بہت سی اقوام نے یہ محسوس کیا کہ اگر کسی وقت کوئی زبردست بحری بیڑا ان کے تعلقات کو دوسرے ممالک سے قطع کر دے تو وہ نہایت سخت مشکلات میں پڑ جائیں گے اور ان کے ملک کے لئے کافی غلہ مہیا نہیں ہو سکے گا۔ اس احساس کے اثر کے نیچے وہ ممالک جو صرف صنعت و حرفت کی طرف توجہ کرتے تھے اور غلہ پیدا کرنے کی طرف ان کی بہت کم توجہ تھی، انہوں نے بھی اپنے ملک میں زراعت پر زور دینا شروع کیا تاکہ اگر آئندہ کسی جنگ میں ان کا محاصرہ بھی کر لیا جائے تو بھی انہیں کھانے پینے کی کوئی تکلیف نہ ہو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایسے ممالک جس قدر غلہ پہلے دوسرے ممالک سے منگواتے تھے اس قدر غلہ منگوانے کی انہیں حاجت نہ رہی۔ دوسرا سبب اجناس کی زیادتی کا یہ پیدا ہو گیا ہے کہ روس کے روس میں غلہ کی افراط ملک میں ایک ایسی حکومت قائم ہے جس نے سب زمینداروں کی زمینیں لے کر سرکاری ملکیت قرار دے دی ہیں۔ ہر زمیندار کے پاس اتنی ہی زمین رکھی جاتی ہے جتنی وہ خود کاشت کر سکتا ہے اور کسی زمیندار کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ اپنی مرضی کے مطابق جو چاہے ہوئے بلکہ گورنمنٹ بتاتی ہے کہ زمیندار کیا بوئیں اور کیا نہ ہوئیں ۔ گورنمنٹ نے مختلف تجربوں کے بعد یہ معلوم کیا ہے کہ کس علاقے میں کون سی چیز ا چھی ہو سکتی ہے۔ اس علم کے ماتحت وہ زمینداروں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ صرف وہی چیز بوئیں جو گورنمنٹ کے نزدیک اس علاقے کیلئے مناسب ہے جب غلہ پیدا ہو جاتا ہے تو زمینداروں کو اس کے کھانے کے مطابق غلہ ملتا ہے ۔ باقی ضرورتوں کے لئے گورنمنٹ خود انتظام کرتی ہے۔ یعنی کپڑے جوتی