انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxx of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page xxx

انوار العلوم جلد ۱۲ ۲۱ تعارف کتب کرتے ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو چاند پر تھوکتا ہے لیکن چاند پر تھو کا خود ان کے اپنے منہ پر پڑتا ہے۔ عقلمند آدمی محسوس کرتے ہیں اور گل سب دنیا معلوم کر نہ پر پڑتا ہے۔ کرتے اور ۔ لے گی کہ حقیقی آزادی اسی تعلیم میں ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ اور دنیا کو نجات دینے والی ہستی صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے۔ (۱۶) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پانچ عظیم الشان اوصاف جلسہ ہائے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی تحریک کے مطابق جماعت احمد یہ لاہور نے ۸ نومبر ۱۹۳۱ ء کو بریڈ لاء ہال میں ایک وسیع جلسہ منعقد کیا جس میں لوگ بڑی کثرت سے شامل ہوئے ۔ اس میں لالہ رام چند مچندہ صاحب اور مولوی محمد بخش صاحب مسلم وغیرہ غیر از جماعت معززین نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف از نے پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔ اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ایک بصیرت افروز تقریر فرمائی جو اڑھائی گھنٹہ تک جاری رہی ۔ آپ نے قرآن مجید کی آیت لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِّنْ انْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ (التوبة: ۱۲۸) کی نہایت لطیف تفسیر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پانچ ایسے اوصاف کا ذکر ہے جو صرف انبیاء کا ہی طرہ امتیاز ہیں ۔ ا۔ آپ کا پہلا وصف رسول کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی آپ میں خود لیڈ رہنے کی خواہش نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے لیڈ رہنے ہیں ۔ حضور فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں منصب رسالت سے قبل ہی صداقت، امانت ، عدالت ، جرات ، حوصلہ، ہمدردی خلق ، محبت ، ملنساری وغیرہ وہ سب صفات حسنہ جو لیڈر بنے کیلئے ضروری ہیں آپ میں موجود تھیں لیکن کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ آپ نے کبھی بڑائی کی خواہش کی ہو۔ پس صرف اللہ کے حکم سے مجبور ہو کر لیڈ رہنے ۔ ۲۔ دوسر ا وصف آپ کا مِنْ اَنْفُسِكُمْ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ یعنی یہ رسول تم میں