انوارالعلوم (جلد 12) — Page 233
۲۳۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم کشمیر کے پریس ایکٹ کے خلاف احتجاج ڈیرہ دون ۳- مئی- حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بحیثیت صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی حسب ذیل بیان اخبارات کو دیا- مجھے پریس کے متعلق ریاست کشمیر کے جدید قوانین کو دیکھ کر بے حد صدمہ ہوا ہے بعض حالتوں میں وہ برطانوی ہند کے ہنگامی قانون سے بھی زیادہ سخت ہیں- ایک ایسے علاقہ میں جہاں فی الحال اخبارات ستر روپے کے لیتھو پریس میں چھپیں گے اور جن کے چند سو سے زیادہ خریدار نہ ہونگے‘ ایک ہزار سے دس ہزار روپے تک کی ضمانت طلب کرنا مضحکہ خیز ہے- ان قوانین کے ماتحت کوئی اسلامی اخبار جاری نہیں ہو سکتا- اس سے تو یہی بہتر تھا کہ پرانے قواعد ہی برقرار رکھے جاتے- پریس کے متعلق ان قوانین سے صاف پتہ لگتا ہے کہ جب گلینسی کمیشن کی سفارشات کو عملی جامہ پہنایا جائے گا تو ان کی حقیقت کچھ بھی نہ رہے گی- مجھے افسوس ہے کہ مسٹر کالون نے موقع کے مطابق مناسب کارروائی نہیں کی اور اپنے آپ کو ہندو حکام کے ہاتھوں میں دے دیا ہے- مجھے اس بات کا خوف ہے کہ قانون شکنی کے جذبہ میں مٹ رہا تھا ریاست نے نئی زندگی پیدا کر دی ہے تا ہم مجھے امید ہے کہ مسلمان پریشان نہ ہونگے اور یاد رکھیں گے کہ ہم اپنا مقصد صرف آئینی ذرائع سے ہی حاصل کر سکتے ہیں- (الفضل ۸ مئی ۱۹۳۲ء)