انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 212

۲۱۲ گا یا قربانی کے رعب سے- پس ہم دونوں دروازوں کو کھلا رکھیں گے- اور دونوں طریق کو اختیار کئے رہیں گے- یعنی انگریزوں اور ریاست دونوں سے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھیں گے- اسی طرح علاوہ دلیل کے اپنی تنظیم کو مضبوط کرتے چلے جائیں گے- پھر اللہ تعالیٰ کے علم میں جس طرح ہماری کامیابی مقدر ہے اسے قبول کر لیں گے اور اس کی قضاء پر خوش ہو جائیں گے- میں امید کرتا ہوں کہ میں نے حقیقت کو خوب واضح کر دیا ہے اور بیدار مغز اہل کشمیر مایوسی پیدا کرنے والے لوگوں کی باتوں میں نہیں آئیں گے- بلکہ ہمت اور استقلال سے اپنے کام میں مشغول رہیں گے اور یہ سمجھ لیں گے کہ مڈلٹن رپورٹ ہماری قسمت کا فیصلہ نہیں وہ فیصلہ ہمارے مولا نے کرنا ہے اور وہ ضرور اچھا ہی فیصلہ کرے گا- مڈلٹن کمیشن مختلف سامانوں میں سے ایک سامان تھا- اگر فی الواقع وہ سامان مفید بھی ثابت نہیں ہوا ( گو میرے نزدیک یہ فیصلہ بھی مفید ہوگا اور بوجہ اپنے کھلے ہوئے تعصب کے شریف طبقہ کو اور بھی ہمارا ہمدرد بنا دے گا) تو ہمیں نہ مایوسی کی کوئی وجہ ہے اور نہ اپنا طریق عمل بدلنے کی- ہمارا اصل پروگرام اسی طرح قائم ہے اور ہم اس کے ذریعہ سے کامیاب ہونے کی کامل امید رکھتے ہیں‘ لیکن ہتھیلی پر سرسوں جما کر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق اور سچی قربانیوں اور تنظیم اور دلیل کے ذریعہ سے- واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العلمین خاکسار مرزا محمود احمد (تاریخ احمدیت جلد۶ ضمیمہ نمبر۱ صفحہ۱۶ تا ۲۲ مطبوعہ ۱۹۶۵ء)