انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 207

۲۰۷ اختلاف رکھنے کے اس پر ناراضگی کا اظہار نہ کرتا- لیکن یہ فیصلہ اس رنگ میں لکھا گیا ہے کہ صرف خلاف ہی فیصلہ نہیں ہے بلکہ متعصبانہ رنگ رکھتا ہے- چنانچہ ہر اک بات جو مسلمانوں کے منہ سے نکلی ہے‘ اسے خلاف عقل‘ بالبداہت باطل‘ کھلی کھلی دروغ بیانی کا قرار دیا گیا ہے اور جو کچھ ریاست کی طرف سے کہا گیا ہے‘ اسے معقول اور درست قرار دیا گیا ہے اور متعدد گواہوں کی گواہیوں کو اپنے ذاتی میلان پر قربان کر دیا گیا ہے- بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں کی گواہی کو من حیث القوم ناقابل اعتبار قرار دے کر ایک ایسی قومی ہتک کی گئی ہے کہ اس کا خمیازہ اگر خطرناک سیاسی بے چینی کی صورت میں پیدا ہو تو برطانیہ کو سوائے اس بات کے کہنے کے چارہ نہ ہوگا کہ خدا مجھے میرے بے احتیاط فرزندوں سے بچائے- مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں‘ اکثر انگریز دلوں میں خوب سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں پر ظلم ہوا ہے- پس اس رپورٹ کا مسلمانوں پر تو کیا اثر ہوگا‘ خود انگریزوں پر بھی اس کا کوئی اثر نہ ہوگا- یہ اور بات ہے کہ بعض لوگ اپنے سیاسی فوائد کی وجہ سے اپنے دلی خیال کا اظہار نہ کریں- مجھے حیرت ہے کہ جب مسٹر مڈلٹن کے نزدیک سب کشمیری مسلمان جھوٹے ہیں تو انہیں اس قدر عرصہ تک تحقیقات کی ضرورت کیا پیش آئی تھی- انہیں تو شروع میں ہی کہہ دینا چاہئے تھا کہ میں کسی مسلمان کی گواہی نہیں سنوں گا- اس قدر روپیہ اپنی ذات پر اور اپنے عملہ پر خرچ کروانے کے علاوہ انہوں نے مسلمانوں کا روپیہ بھی جنہوں نے دور دور سے گواہ منگوا کر پیش کئے تھے کیوں ضائع کرایا- مڈلٹن رپورٹ پر اپنے خیالات ظاہر کرنے کے بعد میں اس امر پر بھی اظہار افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس رپورٹ کے شائع ہونے پر بعض لوگ اس طرح مایوس ہو گئے ہیں کہ گویا ان کے نزدیک مڈلٹن کمیشن ہی ہمارا معبود ہے- اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کام کرنے کے کئی راستے تجویز کئے ہیں- اور ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان راستوں سے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کوشش کریں- اگر ان میں سے بعض بند نظر آئیں تو ہمیں مایوسی کی ضرورت نہیں- ہم نے اگر ایک کوشش کی اور اس میں ہم ناکام رہے تو مایوسی کی کونسی بات ہے- ہمیں پھر کوشش کرنی چاہئے اور پھر کوشش کرنی چاہئے‘ یہاں تک کہ ہم کامیاب ہو جائیں- ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مڈلٹن کمیشن خود مسلمانوں کی کوششوں کے نتیجہ میں مقرر