انوارالعلوم (جلد 12) — Page 206
انوا را العلوم جلد ۱۲ ۲۰۶ تحریک آزادی کشمیر روزِ روشن کی طرح ثابت کر دے گی بے شک اس وقت مایوسی محسوس کرتے ہیں لیکن جن لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ نہ افراد اقوام کے قائم مقام ہوتے ہیں اور نہ قومی جنگیں آسانی سے ختم ہوا کرتی ہیں وہ باوجود خلاف امید نتیجہ کے مایوس نہیں۔ اگر مسلمان مظلوم ہیں جیسا کہ ہمارے نزدیک مظلوم ہیں، تو ہزار مڈلٹن رپورٹ بھی ان کو ظالم نہیں بنا سکتی ۔ وہ مظاہرات جو برطانوی علاقہ کے مظاہرات کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے تھے ، لیکن جن کو بجائے لاٹھیوں کے گولیوں سے پراگندہ کیا گیا اور گولیاں بھی اس بیدردی سے چلائی گئیں کہ کثیر تعداد آدمیوں کی ان کا نشانہ بنی ایسا واقعہ نہیں ہے کہ مڈلٹن رپورٹ ان کی حقیقت پر پردہ ڈال سکے ۔ اگر یڈیشن رپورٹ کا کوئی اثر دنیا پر ہو گا تو ہو گا تو صرف یہ کہ لاکھوں آدمی جو اس سے پہلے برطانوی انصاف پر اعتماد رکھتے تھے ، اب برطانوی قوم کو بھی ظالم اور جابر قرار دینے لگیں گے۔ پس میرے نزدیک یڈلٹن رپورٹ کا نہ ریاست کو فائدہ پہنچا ہے اور نہ مسلمانوں کو نقصان بلکہ انگریزوں کو نقصان پہنچا ہے۔ پس نہ ہندوؤں کے لئے خوشی کا موقع ہے اور نہ مسلمانوں کے لئے گھبراہٹ کا۔ اگر کسی کے لئے گھبراہٹ کا موقع ہے تو عقلمند اور سمجھ دار انگریزوں کے لئے جو اس میں اپنے وقار پر ایک شدید ضرب محسوس کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ مسٹریڈلٹن بد دیانت نہیں اور معاملہ وہ نہیں جو ریاست کے بعض اعلیٰ کارکن کئی ماہ سے بیان کر رہے تھے۔ یعنی یہ کہ انہوں نے مسٹریڈلٹن کی رائے کو خرید لیا ہے۔ کیونکہ گو میں مسٹریڈلٹن کو ذاتی طور پر نہیں جانتا ، لیکن ان کے جاننے والے سب مسلمان یہی کہتے ہیں کہ خواہ ہائی کورٹ کے حج خریدے جاسکتے ہوں، لیکن مسٹرڈ لیٹن نہیں خریدے جا سکتے ۔ اور کوئی وجہ نہیں کہ واقفوں کی رائے کو جو خود ہماری قوم کے فرد ہیں ہم نظر انداز کر دیں۔ پس میں یہ تو نہیں مان سکتا کہ مسٹریڈلٹن نے بد دیانتی سے کام لیا ہے ، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی رائے یک طرفہ ہے اور ان کی طبیعت کا میلان ان کے فیصلہ سے پھوٹا پڑتا ہے۔ جب ایک کمیشن کے تقرر کی ہم کوشش کرتے ہیں تو ہمیں اس امر کی توقع رکھنی چاہئے کہ ممکن ہے اس کا فیصلہ ہمارے خلاف ہو۔ ہزاروں مقدمات میں بچے جھوٹے ثابت ہو جاتے ہیں اور جھوٹے سچے ثابت ہو جاتے ہیں۔ پس اگر صرف مڈلٹن کمیشن کا فیصلہ ہمارے خلاف ہوتا اور مسلمان اس پر ناراض ہوتے تو میں ایسے بچپن کا فعل قرار دیتا اور باوجود اس فیصلہ سے