انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 188

۱۸۸ جو میرے دل میں ہزہائی نس کا ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی- میں خط ختم کرنے سے پہلے یہ بات بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میرا یہ مطلب نہیں کہ ہر امر جس صورت میں نمائندوں نے پیش کیا ہے اسی صورت میں اس کے متعلق فیصلہ کیا جائے- وہ صرف ایک بنیاد ہے لیکن اگر کوئی ایسی راہ نکل آئے جو رعایا کے حقوق کی حفاظت کرتی ہو اور ساتھ ہی والئی ملک کے احساسات اور ریاست کے حقیقی مفاد بھی اس میں ملحوظ رہتے ہوں تو ایسے تصفیہ پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور میں ایسے تغیرات کو ملک سے منوانے میں ہر طرح ہزہائی نس کی حکومت کی امداد کروں گا- میں امید کرتا ہوں کہ آپ ہزہائی نس کو ایسا مشورہ دیں گے کہ کوئی راہ ملک میں قیامامن کی نکل آئے گی- ورنہ مجھے ڈر ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک ایجی ٹیشن کے جاری رہنے کے بعد ایک طبقہ کو ایجی ٹیشن کی عادت ہی نہ پڑ جائے- جس کے بعد کوئی حق بھی ایسے لوگوں کو تسلی نہیں دے سکتا- یہ حالت ملک اور حکومت دونوں کے لئے نہایت خطرناک ہوتی ہے اور عظیم الشان انقلابات کے بغیر ایسی حالت نہیں بدلا کرتی- اللہ تعالیٰ ایسے ناگوار تغیرات سے مہاراجہ صاحب بہادر اور ان کی رعایا کو محفوظ رکھے- خاکسار مرزا محمود احمد ۱۹۳۲ء-۱-۳ (تاریخ احمدیت جلد۶ ضمیمہ نمبر۲ صفحہ۵۴ تا ۵۷ مطبوعہ ۱۹۶۵ء)