انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 186

انوار العلوم جلد ۱۲ ١٨۶ تحریک آزادی کشمیر مطالبہ نمبر ہ بھی ایسا مطالبہ ہے کہ جس کے متعلق انگریزی حکومت کہ جہاں ہندو آبادی کی اکثریت ہے ایک فیصلہ کر چکی ہے اگر اس قانون کو ریاست کشمیر میں کہ جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے جاری کر دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نظر نہیں آتا۔ مطالبہ نمبرہ کے متعلق ہزہائی نس نے مہربانی فرما کر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ اپنی رعایا کو زیادہ سے زیادہ حکومت میں حصہ لینے کا موقع دیں گے لیکن یہ الفاظ اصل مطالبہ پر حاوی نہیں۔ ہزہائی نس کی رعایا کا مودبانہ مطالبہ یہ تھا کہ حکومت کے انتظام کی ترتیب ایسی ہو کہ آہستہ آہستہ حکومت نمائندہ ہو جائے ہزہائی نس مہاراجہ صاحب بہادر کے وعدہ کے الفاظ ایسے ہیں کہ اگر صرف ملازمتیں مسلمانوں کو زیادہ دے دی جائیں تو ان الفاظ کا مفہوم ایک گونہ پورا ہو جائے گا۔ حالانکہ اصل مطالبہ اور ہے۔ پس اگر اس امر کی تسلی دلا دی جائے کہ سے مراد نمائندہ حکومت کے اصول پر حکومت کو "INCREASING ASSOCIATION” قائم کرنا ہو گا۔ خواہ اس کی پہلی قسط آخری قسط کو پورا کرنے والی نہ ہو تو یہ امر یقینا رعایا کی تسلی کا موجب ہو گا۔ مطالبات کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کرنے کے بعد میں یہ زائد کرنا چاہتا ہوں کہ بعض حالات ان مطالبات کے تیار ہونے کے بعد حوادث زمانہ کی وجہ سے یا ریاست کے بعض اعلانات کی وجہ سے نئے پیدا ہو گئے ہیں ان کے متعلق ہمدردانہ غور بھی ضروری ہے کیونکہ ان کے تصفیہ کے بغیر فساد کا مٹنا مشکل ہے۔ سب سے پہلا سوال زمینداروں کی اقتصادی حالت تباہ ہو ۔ حالت تباہ ہو جانا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ریاست جموں کی سرحد اس حکومت سے ملتی ہے جس نے اس زمانہ میں جمہوریت کا ایک نیا مفہوم پیدا کیا ہے اور اس سے تمام دنیا میں ہیجان پیدا ہو گیا ہے ۔ زمینداروں کی موجودہ تباہی نے ان خیالات کو رائج کرنے میں بے انتہا مدد دی ہے۔ انگریزی حکومت نے باوجود قیام امن کی خاطر کثیر رقوم خرچ کرنے کے اس وقت زمینداروں کا بوجھ کم کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔ ریاست جموں نے بھی اپنے مالیہ میں تخفیف کی ہے لیکن وہ تخفیف بہت کم ہے۔ زمیندار پر جو بار ریاست میں اس وقت ہے وہ انگریزی علاقہ کے زمیندار کے بار سے بہت زیادہ ہے حالانکہ جو قیمت انگریزی علاقہ کے زمیندار کو اپنی پیداوار پر ملتی ہے اس سے بہت کم ریاست کے زمیندار کو اپنی پیداوار پر ملتی ہے۔ پس ان حالات کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے۔