انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 170

انوارالعلوم جلد ۱۳ ۱۷۰ تحریک آزادی کشمیر غور کرنے کو تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مہاراجہ خود بلا کر نمائندوں سے کہیں کہ کچھ دن کی اور مہلت دے دو۔ میں نے کہا کہ اس میں ان کی فتح ہے۔ میں سفارش کروں گا کہ کچھ دن اور بڑھا دو باقی اپنی مصلحت وہ خود سمجھ سکتے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اگر یوں ہو کہ کچھ مہلت مل جائے اور اس عرصہ میں وقت مقرر ہو کہ راجہ ہری کشن کول صاحب باہر آکر آپ سے ملیں۔ میں نے کہا کہ مجھے ان سے ملنے کا شوق نہیں۔ اصل سوال تو اہل کشمیر کے خوش ہونے کا ہے اگر وہ ساتھ ہوں اور خوش ہو جائیں تو مجھے کچھ اعتراض نہیں۔ اس پر وہ تینوں تجویزیں لے کر گئے ہیں۔ لیکن جیون لال صاحب کی تارنے اور آپ کی تار نے شبہ ڈال دیا ہے اس لئے آپ لوگ بھی ہوشیار رہیں۔ گلنسی صاحب کے متعلق الگ ہدایات میں ذکر کروں گا۔ نہایت مخفی بات ہے۔ احرار باہر یہ مشہور کر رہے ہیں کہ قادیانی پروپیگنڈا کی وجہ سے ہمیں آنا پڑا۔ لیڈروں نے روپیہ کھا لیا۔ اس سے بھی ہے اور مصنوعی تاریں دلوا رہے یں دلوا رہے ہیں کہ نمائندوں پر ہمیں اعتبار نہیں آپ لوگ اس ہوشیار رہیں۔ خاکسار مرزا محمود احمد او پر جن تجاویز کا ذکر آیا ہے۔ ان کا مسودہ حضور کے قلم سے درج ذیل کیا جاتا ہے۔) عارضی معاہدہ کی شرائط میر پور کوٹلی ، راجوری ، کشمیر و پونچھ وغیرہ کے فسادات کے متعلق ایک کمیشن جس میں ایک حج مسلمان ایک ہندو اور ایک انگریز ہو مقرر کر دیا جائے۔ ایسے حج ہوں جن پر فریقین کو اعتماد ہو ۔ ۲۔ ان علاقوں میں فوراً کم سے کم پچاس فی صدی افسر یعنی وزیر وزارت، سپرنٹنڈنٹ پولیس انسپکٹران پولیس ، مجسٹریٹ درجہ اول و دوم مسلمان مقرر کر دیئے جائیں اور موجودہ تمام افسر وہاں سے بدل دیئے جائیں۔ گورنر کشمیر کو بھی وہاں سے فور ابدل دیا جائے۔ قانون، پریس اور ایسوسی ایشنز انگریزی اصول پر فورا جاری کر دیئے جائیں۔ قانون