انوارالعلوم (جلد 12) — Page 167
انوار العلوم جلد ۱۴ 142 تحریک آزادی کشمیر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مسلمانان کشمیر کے مطالبات کے متعلق مہاراجہ بہادر کے اعلان پر تبصرہ میں نے بہت دی قادیان ۲۰۔ اکتوبر ۔ مہاراجہ صاحب کشمیر نے مسلم نمائندگان کو جو جواب دیا ہے اسے دلچسپی سے پڑھا ہے۔ اس اس میں میں کئی ایک ایسی باتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مہاراجہ صاحب کے دل میں اپنی رعایا کو مطمئن کرنے کی پوری خواہش ہے لیکن بد قسمتی سے اس میں کوئی تعمیری پروگرام نہیں بیان کیا گیا اور بہت کچھ تفصیلات پر منحصر ہے جو ابھی پردہ راز میں ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر مہا راجہ صاحب فوری اعلان کر دیتے کہ ان کی رعایا کو بغیر کسی مزید تاخیر کے انسانیت کے وہ تمام ابتدائی حقوق عطا کر دیئے جائیں گے جو میموریل کی ابتداء میں درج ہیں اور جن سے وہ اس وقت تک محروم چلی آتی ہے۔ ایسے اعلان کے لئے کسی لمبے چوڑے غور و خوض کی ضرورت نہ تھی کیونکہ یہ حقوق نہ صرف برٹش انڈیا میں بلکہ تمام متمدن ممالک میں خواہ وہ تہذیب کے کسی درجہ پر کیوں نہ ہوں رعایا کو حاصل ہیں۔ مہاراجہ صاحب کے لئے بہترین طریق یہ تھا کہ ان تمام قوانین کو منسوخ کر دیتے جو غیر متعلق اشخاص کے نزدیک بھی ان کی رعایا کی ذہنی و اقتصادی ترقی کے لئے مضر ہیں۔ ایسے امور کے تصفیہ کیلئے جو زیادہ غور و فکر کے محتاج ہیں ، کشمیر میں ایک گول میز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کر دیتے اور ساتھ ہی مسلم نمائندوں کی ایک کمیٹی مقرر کر دیتے جو وزراء کے سامنے اپنی شکایات پیش کرتی ۔ جن کا دور کرنا رعایا کا اعتماد حاصل کرنے میں بہت مد ہو گا۔ مہاراجہ صاحب کی طرف سے دلال کمیشن کی رپورٹ کی تائید نے اس اعلان کے مفید اثر کو بہت حد تک کمزور کر دیا ہے کیونکہ اس رپورٹ کی نہ صرف مسلمانوں نے بلکہ