انوارالعلوم (جلد 12) — Page xxi
انوار العلوم جلد ۱۲ ۱۲ تعارف کتب کشمیری مسلمانوں کیلئے حضور کی مساعی اتنی اعلیٰ اور کامیاب تھیں کہ کشمیری لیڈروں نے بھی اسکی بر ملا تعریف کی ۔ چنانچہ جناب شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے اپنے ایک خط میں حضور کی خدمت میں لکھا:۔ نہ میری زبان میں طاقت ہے اور نہ میرے قلم میں زور اور نہ میرے پاس وہ الفاظ ہیں جن میں جناب کا اور جناب کے بھیجے ہوئے کا رکن مولانا در د صاحب اور سید زین العابدین صاحب وغیرہ کا شکریہ ادا کر سکوں ۔ یقیناً اس عظیم الشان کام کا بدلہ جو کہ آنجناب نے ایک بے کس اور مظلوم قوم کی بہتری کیلئے کیا ہے صرف خدائے لایزال سے ہی مل سکتا ہے۔ میری عاجزانہ دعا ہے کہ خدا وند کریم آنجناب کو زیادہ سے زیادہ طاقت دے تاکہ آنحضور کا وجود مسعود بے کسوں کیلئے سہارا ہو۔“ تاریخ احمدیت جلد نمبر ۶ صفحه ۶۰۱ ) اس سے ظاہر ہے کہ حضور کے ان مضامین اور مساعی کا کشمیریوں اور انکے لیڈروں پر کتنا گہرا اثر تھا اور وہ حضور کے کس قدر ممنون احسان تھے ۔ کشمیری مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر ان کی مدد کیلئے آپ کے دل میں جو جوش اٹھا وہ وقتی اور عارضی نہ تھا بلکہ زندگی بھر قائم رہا اور کشمیر کمیٹی سے علیحدگی کے بعد بھی حضور اپنے طور پر جہاں اور جیسے ممکن ہوا اپنے عزم کے مطابق اس کام کو سرانجام دیتے رہے۔ آپ کا یہ عزم اتنا اتنا پختہ تھا کہ آپ نے جماعت احمد یہ کو یہ کو بھی نصیحت کر دی کہ وہ حالات کے مطابق کامیابی تک اس کام کو جاری رکھے ۔ چنانچہ حضور فرماتے ہیں :۔ میں نے کشمیر کے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہے کہ جب تک کامیابی حاصل نہ ہو جائے خواہ سو سال لگیں ہماری جماعت انکی مدد کرتی رہے گی ۔ یہ ہمارا کشمیر کے مسلمانوں سے وعدہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک حبشی غلام نے ایک قوم سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ فلاں فلاں رعایتیں تمہیں دی جائیں گی جب اسلامی فوج گئی تو اس قوم م نے کہا ہم سے تو معاہدہ ہے۔ فوج کے افسر اعلیٰ نے اس معاہدہ کو ت تسلیم کرنے میں لیت و لعل کی تو بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئی ۔ انہوں نے فرمایا مسلمان کی بات جھوٹی نہ ہونی چاہیئے خواہ غلام ہی کی ہو۔ مگر یہ غلام کا نہیں بلکہ جماعت کے امام کا وعدہ ہے۔ پس ہماری جماعت کو مسلمانان کشمیر کی امداد جاری رکھنی چاہیئے XXXXXXXX