انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 159

۱۵۹ مطالبات پیش کرنے میں کیوں دیر ہوئی آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مسلمانوں کی طرف سے مطالبات پیش کرنے میں جو دیر ہوئی ریاست کی کمیونک (COMMUNIQUE) میں اسے بھی اشارۃ سازش کا ثبوت قرار دیا گیا ہے- چونکہ مطالبات کی تیاری کے بارے میں مجھے ذاتی علم ہے‘ میں اس کی بھی تردید کرنی چاہتا ہوں-اصل بات یہ ہے کہ مطالبات اور شے ہے اور ان کا صحیح قانونی زبان میں لکھنا اور شے ہے- ۲۶-اگست کو صلح ہوئی ہے اور اسی وقت سے نمائندگان قوم پبلک کی شکایات جمع کرنے میں مصروف ہو گئے- ان کے سامنے دو زبردست کام تھے- ایک یہ کہ ضروری مطالبات باقی نہ رہ جائیں اور دوسرے یہ کہ غیر ضروری مطالبات فہرست میں شامل نہ ہو جائیں- عوام کو اس امر پر مائل کرنا کہ وہ اپنے کم ضروری مطالبات کو فی الحال نظر انداز کر دیں‘ کوئی معمولی بات نہیں- اگر سب کے سب مطالبات پیش کر دیئے جاتے تو کئی سو ہو جاتے اور انہیں رد کرنے سے ریاست کے لئے سخت مشکل پیدا ہو جاتی- نمائندوں نے ریاست کی خدمت کی اور اس پر احسان کیا کہ ایسے مطالبات کو جو زیادہ اہم نہ تھے نظر انداز کر دیا- اس کے بعد انہوں نے آئین اساسی کے ماہرین سے قانونی زبانی میں اپنے مطالبات کو لکھوایا- یہ دونوں کام قریباً تین ہفتے میں ختم ہوئے- جو عرصہ بجائے زیادہ ہونے کے اس قدر کم ہے کہ ہر عقلمند اسے استعجاب کی نگاہ سے دیکھے گا لیکن ریاست نمائندوں کی اس خدمت پر شکر گزار ہونے کی بجائے اسے قابل اعتراض اور سازش کا ثبوت قرار دیتی ہے- چونکہ مطالبات کے آخری ڈرافٹ کا کام اور قانون دان لوگوں سے مشورہ میرے ہی ذریعہ سے ہوا ہے‘ اس لئے میں پبلک کے سامنے واقعات کو پیش کر کے پوچھتا ہوں کہ کیا یہ توقف ناجائز تھا اور کیا اس بارہ میں نمائندوں کی کوشش قابل تحسین تھی یا قابل مذمت- ریاست کے بے تدبیر مشیر ہم لوگوں کو جو ریاست سے باہر ہیں اس قسم کے اعلانات کو دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ ریاست کا کام اس وقت ایسے ہاتھوں میں ہے جو مہاراجہ بہادر کو کم فہمی کی وجہ سے بدنام کر رہے ہیں- کاش وہ ہزہائی نس مہاراجہ کو حقیقت حال سے آگاہ کرتے اور بتاتے کہ ان کی مسلم رعایا دوسری رعایا سے کم وفادار نہیں اور مستقل امن کی صورت پیدا کرتے- آج کل ساری دنیا کی نگاہ اس قضیہ پر لگی ہوئی ہے اور حکام کی غلطی مہاراجہ صاحب کی طرف منسوب کی جاتی ہے-