انوارالعلوم (جلد 12) — Page 150
انوار العلوم جلد ۱۲ ۱۵۰ تحریک آزادی کشمیر اس لئے منگوائے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو پھیلا کر ان سے دب کر صلح کروا دیں۔ پس یہ قدرتی امر ہے کہ شور سن کر ہر اک کے ہمدرد اس کے ارد گرد جمع ہو جائیں گے۔ اس کے اقرار میں نہ کوئی نقصان ہے اور نہ ایسی امداد میں کوئی ہرج ہرج تب تھا کہ بے چینی کے اسباب نہ ہوتے لیکن باہر والوں کی انگیخت کی وجہ سے ریاست کے باشندے فساد کرتے۔ لیکن جب لوگوں کی تکلیف کے بہت سے اسباب موجود ہیں تو پھر باہر والوں پر ناجائز دخل اندازی کا اعتراض کس طرح آ سکتا ہے۔ ریاست اپنی اصلاح کرے، باہر والے خود خاموش ہو جائیں گے۔ اہالیانِ ریاست کو نصیحت اور جذبہ ایثار سے اور ا نصیحت آخر میں میں پھر اہالیان ریاست کو نصیحت کرتا ہوں کہ اتحاد احترام کو مد نظر رکھتے ہوئے کام کریں۔ ہر ایک جائز مدد دینے کا وعدہ سے اور اپنے لیڈروں کی اطاعت اور ان کے میں اپنی طرف سے اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طرف سے اقرار کرتا ہوں کہ ہر اک جائز مدد ہم انشاء اللہ ان کی کریں گے۔ اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جب تک اور جس حد تک ہم سے ہو سکے گا ریاست اور ان کے درمیان وقار والی صلح کرانے کے لئے کوشش کریں گے۔ اور ہم اللہ تعالیٰ سے امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے فضل سے آپ لوگوں کو بھی اور مہاراجہ صاحب کو بھی ایسے راستہ پر چلنے کی توفیق دے گا جس سے ریاست اور اہل ریاست دونوں کی عزت بڑھے گی اور کشمیر اپنے طبعی ذرائع کے مطابق اپنے ہمسایہ ممالک کے دوش بدوش عزت و اکرام کے مقام پر کھڑا ہو گا۔ وَاخِرُ دَعُوْمِنَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ خاکسار مرزا محمود احمد (الفضل ۲۷ ستمبر ۱۹۳۱ء)