انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 138

۱۳۸ کے معاملہ میں بہت سے غیر احمدی احمدیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو غیر کانگریسی کانگرسیوں سے مل کر کیوں کام نہیں کر سکتے- مجھے اس دلیل پر بھی اعتراض ہے- مسئلہ کشمیر سیاسی مسئلہ ہے نہ مذہبی- پس جس طرح سالہا سال سے احمدی غیر احمدی لیڈروں کی قیادت میں کام کرتے رہے ہیں اگر ایک امر میں اتفاقاً احمدی صدر ہو جائے تو غیر احمدی بھی ان کی قیادت میں کام کر سکتے ہیں- لیکن کانگرسی اور غیر کانگریسی سیاسی تقسیمیں ہیں- پس اگر سیاسی اختلاف موجود ہو تو غیر کانگریسی کانگریسی کی ماتحتی میں کام نہیں کر سکے گا- گو وہی کانگریسی ایک دوسرے فرقہ کے سیاسی طور پر متحد الخیال آدمی کی ماتحتی میں کام کر سکے گا- کسی حمایتی نے احرار پر حملہ نہیں کیا تیسرے امر کا جواب یہ ہے کہ یہ امر واقعی طور پر درست نہیں کہ میرے حمائتی احرار کے خلاف حملے کرتے ہیں- ایسا بے شک ہوا ہے کہ احرار کے مخالف پروپیگنڈا کا جواب دیا گیا ہو لیکن حملہ اب تک میرے علم میں ایک بھی نہیں ہوا- انقلاب کے عملہ کو جس شخص نے یہ اطلاع دی ہے‘ بالکل غلط ہے- لیکن پھر بھی میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس کی تصدیق ہو جائے تو میں اپنے حمائیتوں کو تنبیہ کرنے کے لئے تیار ہوں- ‘’الفضل’‘ میں احرار کا ذکر اب رہا پہلا سوال- سو الفضل کے سوا سلسلہ احمدیہ کے کسی اخبار میں احرار کا ذکر نہیں آتا- اس لئے صرف ‘’الفضل’‘ ہی کا سوال باقی رہ جاتا ہے کیونکہ میں ذمہ وار اسی کا ہو سکتا ہوں- اگر سلسلہ کے باہر کا کوئی اخبار ہو تو اس کی ذمہ واری مجھ پر نہیں ہو سکتی- اور جہاں تک مجھے علم ہے ایسا کوئی اسلامی اخبار ہے بھی نہیں جس نے احرار پر ان کے حملہ کے بغیر کوئی حملہ کیا ہو- وہ تحریرات جو اخبارات میں احرار کے متعلق شائع ہوئی ہیں ان کی حقیقت سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل امور کا علم نہایت ضروری ہے- (۱) آل انڈیا کشمیر کمیٹی سب سے پہلے کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لئے منظم صورت میں ظاہر ہوئی ہے وہ آل انڈیا مسلم کانفرنس کی تسلیم کردہ کمیٹی ہے- اور تمام ہندوستان کے سربرآوردہ مسلمان اس میں شامل ہیں جن میں ہر قسم اور ہر خیال کے لوگ شامل ہیں- (۲)احرار نے اس سوال کو ہاتھ میں لیتے ہی لاہور میں تقریروں میں بیان کیا کہ لوگوں کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی پر اعتبار نہیں اور انہوں نے یہ کام ہمارے سپرد کر دیا ہے اور سربرآوروہ