انوارالعلوم (جلد 12) — Page 132
۱۳۲ وہاں خود دیکھا ہے کہ مسلمان زمیندار کو ایک بنیا پیٹتا جاتا ہے اور وہ آگے سے ہاتھ جوڑتا ہے- میں چھوٹا تھا کہ ہم سری نگر جاتے ہوئے ایک گاؤں میں سے گزرے- اس وقت موٹریں نہ تھیں ٹانگوں پر جاتے تھے- گاؤں والوں سے ہم نے مرغ مانگا مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا اس گاؤں میں تو وبا پڑی تھی اور سب مرغ مر گئے- میرے چھوٹے بھائی بھی میرے ساتھ تھے جن کی عمر اس وقت تیرہ سال کی تھی- وہ ایک گھر میں گھس گئے اور واپس آ کر کہا اس میں چالیس سے زیادہ مرغ ہیں- میں نے سمجھا بچہ ہے‘ غلطی لگی ہوگی لیکن پاس ہی صحن تھا‘ میں نے جو ادھر نظر کی تو واقعی صحن مرغوں سے بھرا ہوا تھا- میں نے جب گھر والے سے پوچھا تو اس نے کہا یہ تو ہم نے نسل کشی کے لئے رکھے ہوئے ہیں- اتنے میں ایک اور ساتھی نے آ کر کہا- قریباً سب گھروں میں کثرت سے مرغ موجود ہیں- آخر گاؤں والوں نے بتایا کہ بات یہ ہے کہ سرکاری آدمی آتے ہیں اور بغیر پیسہ دیئے ہمارے گھر اجاڑ کر چلے جاتے ہیں اس لئے ہر سفید پوش کو سرکاری آدمی سمجھ کر انکار کر دیتے ہیں- ایک دفعہ میں پہلگام گیا- ریاست کا اس وقت قانون تھا کہ بوجھ اٹھانے کیلئے اگر آدمی کی ضرورت ہو تو تحصیلدار کو چٹھی لکھی جائے- چنانچہ میں نے بھی چٹھی لکھی- مزدور آ گئے اور بوجھ اٹھا کر چل پڑے- تھوڑی دور جا کر میں نے دیکھا کہ ان میں سے ایک آہیں بھر رہا اور کراہ رہا ہے میں چونکہ جانتا تھا- کشمیری مزدور بوجھ بہت اٹھاتے ہیں اس لئے اس کے کراہنے پر مجھے حیرت ہوئی اور کہا تم لوگ تو بوجھ اٹھانے میں بہت مشاق ہو پھر اس طرح کیوں کراہ رہے ہو- اس نے کہا مشاق وہی ہوتے ہیں جن کا یہ پیشہ ہو- میں تو برات کے ساتھ جا رہا تھا کہ پکڑ کر یہاں بھیج دیا گیا- وہ ایک معزز زمیندار تھا جس نے کبھی یہ کام نہ کیا تھا- میں نے اسے کہا میں ٹرنک خود تو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا پہلے گاؤں میں ہی چل کر خواہ مجھے کتنی رقم خرچ کرنی پڑے‘ میں وہاں سے مزدور لے کر تمہیں چھوڑ دوں گا‘ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا- اس سے بھی زیادہ عجیب واقعہ مجھے ایک افسر نے جو پونچھ میں وزارت کے عہدہ پر فائز رہا ہے بتایا انہوں نے بیان کیا کہ ایک دفعہ مجھے مزدوروں کی ضرورت تھی میں نے حاکم مجاز کو اس کے متعلق خط لکھا اس نے کچھ مزدور بھیجے جن کے متعلق مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک بھی مزدور نہ تھا بلکہ سب کے سب براتی تھے جن میں دولہا بھی شامل تھا- ذرا غور کرو- یہ کس قدر درد ناک واقعہ ہے- ان لوگوں کے لئے کھانے پکے ہوئے ہوں گے اور لڑکی والے