انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 126

۱۲۶ طرح ہم نے حکومت کشمیر کا جھوٹ ثابت کرنے کے لئے کافی مسالہ جمع کر لیا ہے- پھر نہ صرف یہ امداد دی بلکہ زخمیوں کے علاج کے لئے ڈاکٹر اور ادویہ وغیرہ بھجوائے- پھر جب پتہ لگا کہ لوگ بہت غریب ہیں تو پسماندگان کو امدادی رقوم بھجوائیں- بعض گھروں کی تو یہ حالت تھی کہ ادھر ان کے آدمی قید ہو گئے اور ادھر ان کے ہاں کھانے کو کچھ بھی نہ تھا- ہم نے اس کے لئے روپیہ بہم پہنچایا- اس وقت مجلس احرار قائم ہو چکی تھی مگر کیا انہوں نے بھوکوں کا پیٹ بھرا- نہیں اور ہر گز نہیں- ہاں آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے ایسا کیا- پھر مقدمات شروع ہوتے ہی انہوں نے قانونی امداد طلب کی اور ہم نے فوراً وہاں وکیل بھجوا دیا- مولوی مظہر علی صاحب اظہر تحقیقات کے لئے سرینگر تو پہنچ گئے مگر جموں میں مقدمات کی پیروی کے لئے نہ پہنچ سکے- پھر ہم نے ولایت میں پروپیگنڈا کیا ہے اور وہاں کے بعض لارڈز کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وزراء اور پارلیمنٹ کے دوسرے ممبروں پر زور دیں کہ اس معاملہ میں مداخلت کی جائے اور ان سب باتوں کا اتنا اثر ہوا ہے کہ اندازاً چھوسوروپیہ ماہوار تنخواہ پر لنڈن میں ایک ایجنٹ مقرر کیا گیا ہے جو ہمارے پروپیگنڈا کا مقابلہ کرے اور ریاست کے حق میں پروپیگنڈا کے لئے بعض اخبارات کو مائل کرے- اگر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی یہ مساعی معمولی ہیں تو کیا ضرورت تھی کہ اس قدر خرچ کیا جاتا- پھر ہم نے عرب‘ امریکہ‘ سماٹرا‘ جاوا‘ مصر شام وغیرہ تمام مشرقی و مغربی ممالک میں انتظام کیا ہے کہ وہاں کے اخبارات میں حکومت کشمیر کے مظالم کی داستانیں شائع کی جائیں- غلامی کو دور کرنے والی لیگوں کو لکھا گیا ہے کہ انگریزی حکومت کے اندر اس وقت بھی تیس لاکھ انسان بدترین غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں- غرضیکہ دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں ہم نے اس تحریک کو نہ پہنچایا ہو کیونکہ ہر جگہ ہماری جماعت خدا کے فضل سے موجود ہے- ہاں ہم نے جو کچھ نہیں کیا وہ یہ ہے کہ سب کچھ کرنے کے باوجود شور نہیں مچایا کہ ہم یہ کر رہے ہیں اور وہ کر رہے ہیں- ایک مخلص لیڈر نے مجھے لکھا کہ آپ اور میں کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش کریں- حکومت لازماً ہمیں گرفتار کرے گی اور اس سے تمام ملک میں شور مچ جائے گا- میں نے انہیں لکھا یہ صحیح ہے کہ میری اور آپ کی گرفتاری پر شور پڑ جائے گا کیونکہ ہمارے لئے اپنی جان اور مال قربان کرنے والے لاکھوں آدمی موجود ہیں مگر ریاست اتنی بے وقوف نہیں کہ ہمیں گرفتار کرے- میں خوب جانتا ہوں کہ وہ ہر گز ایسا نہیں کرے گی- پس اس فعل میں ہماری کوئی قربانی نہیں ہوگی صرف ایک