انوارالعلوم (جلد 12) — Page xvi
انوار العلوم جلد ۱۳ تعارف کتب تیسرے باب میں آپ نے سلسلہ احمدیہ کا تعارف کراتے ہوئے جماعت احمد یہ کے بائیں بنیادی عقائد اور انکی مختصر تشریح درج فرمائی ہے ۔ آخر میں حضور نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ائیوں کو ہدایت دے اور اپنے فضل سے انکی راہنمائی فرمائے کیونکہ ہم سب کمزور سب بھائیوں کو اور اسکی مہربانی کے محتاج ہیں ۔ (۵) گورنمنٹ اور آریوں سے خطاب اور ہیں ۲۵ مارچ ۱۹۳۱ء کو کانپور ( انڈیا ) میں ہندوؤں نے فرقہ وارانہ فساد بر پا کر کے مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا اور ان پر ہولناک مظالم ڈھائے ۔ بوڑھے اور معصوم بچے بھی سفاکی سے قتل کر دیئے گئے اور عورتوں کی چھاتیاں کاٹ دی گئیں ۔ مسلمانوں کے مکان جلا دیئے گئے اور مساجد گرادی گئیں ۔ ایسے واقعات ہندوستان کے کئی اور شہروں میں بھی ہوئے ۔ ہندوؤں اور خصوصاً آریوں کے عام مسلمانوں اور جماعت احمد یہ کے خلاف لگا تار مظالم کو پیش نظر رکھتے ہوئے حضرت امام جماعت احمدیہ نے ۲۷ مارچ ۱۹۳۱ء کو ایک مفصل خطبہ جمعہ دیا۔ حضور نے ایک طرف تو انگریز حکومت کے غلط رویہ کی نشاندہی کی کہ اس کا طریق بین الاقوامی معاملات میں انصاف پر مبنی نہیں بلکہ وقتی مصلحت پر مبنی ہے۔ جو قوم زیادہ شور مچائے اور حکومت کو تنگ کرے تو حکومت اس کو راضی کرنے کیلئے عدل و انصاف کو ہاتھ سے چھوڑ دیتی ہے جو کسی طرح بھی درست نہیں ۔ دوسری طرف آپ نے آریوں کو تنبیہ کی کہ اگر وہ ہمارے ہے جو کی بزرگوں کی دشنام طرازی سے باز نہ آئے تو ہم انکی دکھتی رگ اس طرح پکڑیں گے کہ وہ پیچ اٹھیں گے ۔ حضور کے اس ولولہ انگیز خطبہ سے اپنوں اور بیگانوں میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا ۔ کئی قسم کے خطوط حضور کو ملے نیز آریہ اخبارات نے بھی بہت کچھ لکھا اور اپنی برہمی کا اظہار کیا ۔ ان حالات میں حضور نے اپنے نقطہ نظر کی مزید وضاحت اور تشریح کیلئے یہ مضمون تحریر فرمایا تا کہ دوست اور دشمن دونوں کو اصل حقیقت معلوم ہو جائے اور کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ حضور نے فرمایا کہ ہم انگریزی حکومت کی ہمیشہ تعریف کرتے رہے ہیں اور واقعتا ان میں