انوارالعلوم (جلد 12) — Page 104
۱۰۴ اس وقت تک جیل میں پڑے سڑ رہے ہیں- کشمیر کے مسلمانوں کو جو ایک ہمدرد کشمیر کے مقدمے کی کارروائی سننے کی خواہش کے مجرم تھے‘ گولیوں اور چھروں سے زخمی کیا گیا- ان غریب قیدیوں اور بے کس مجروحوں اور خاموشی سے جان دینے والوں کا صرف یہ قصور تھا کہ وہ مسلمان کہلاتے تھے اور انہیں یہ احساس پیدا ہونے لگ گیا تھا کہ ہم بھی آدمی ہیں- ہر ایک مسلمان سے امید پس آج ہر ایک مسلمان جو ہندوستان کے کسی گوشے میں رہتا ہو‘ اس سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ۱۴- اگست کو جلسہ کرائے یا جلسے میں شامل ہو اور اس صورت حال کے خلاف احتجاج کرے کیونکہ جموں اور کشمیر کے تیس لاکھ مسلمانوں کی آواز جو غلامی کے طوق کے بوجھ کے نیچے کراہ رہے ہیں کسی خیرخواہملت کو آرام و چین سے سونے نہیں دے سکتی- اس جلسہ کا پروگرام مندرجہ ذیل قرار پایا ہے- جلوس ۱ - جس قدر زیادہ سے زیادہ آدمی شامل ہو سکیں‘ ان کا ایک جلوس اس طرح نکالا جائے کہ مسلمانوں میں کشمیر کے معاملات کے متعلق دلچسپی پیدا ہو اور دوسری اقوام اور حکومت پر اس بارہ میں مسلمانوں کے دلی جذبات کا انکشاف ہو جائے اور وہ معلوم کر لیں کہ اس بارہ میں مسلمان جب تک ظلم کا ازالہ نہ کیا جائے صبر نہیں کریں گے- جلسہ ۲ - ایک جلسہ وسیع پیمانے پر کیا جائے اور ہر فرقہ کے لوگوں کو اس میں شامل کیا جائے- اس جلسہ میں کشمیر کے حالات سنائے جائیں جن کے متعلق ایک مختصر رسالہ مولویاے- آر- درد صاحب ایم- اے سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے اصل لاگت پر مل سکتا ہے- اس رسالہ کو فروخت یا تقسیم کیا جائے تو اور بھی مفید ہوگا- دوسری ریاستوں سے کشمیر کے سوال کا تعلق نہیں ۳ - حکومت کشمیر کی طرف سے دوسری ریاستوں میں یہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ مسلمان مہاراجہ صاحب کو تخت سے اتروانا چاہتے ہیں اور اس کے بعد وہ باری باری دوسری ہندو ریاستوں پر ہاتھ صاف کریں گے حالانکہ یہ واقعات کے بالکل بر خلاف ہے- مسلمان صرف کشمیر کے مسلمانوں کو ابتدائی حقوق انسانیت دلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور بس- دوسری ریاستوں سے کشمیر کے سوال کا کوئی تعلق نہیں- صرف بعض حکام کشمیر کی یہ چال ہے جس سے وہ دوسری ریاستوں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کر کے