انوارالعلوم (جلد 12) — Page 100
۱۰۰ کشمیر ڈے اور فراہمی چندہ کی تحریک اس پروگرام کے بعد ہی میرے نزدیک کشمیرڈے کی کوئی تاریخ مقرر کرنی چاہئے اور اتنا عرصہ پہلے سے وہ تاریخ مقرر ہونی چاہئے کہ سارے ہندوستان میں جلسوں کی تیاری کی جا سکے- اس دن علاوہ کشمیر کے حالات سے مسلمانوں کو واقف کرنے کے پروگرام کا وہ حصہ بھی لوگوں کو سنایا جائے جس کا شائع کرنا مناسب سمجھا جائے اور ہر مقام پر چندہ بھی کیا جائے- اگر فیگاؤں پانچ پانچ روپیہ بھی اوسطاً چندہ کے ہو جائیں تو قریباً تین لاکھ روپیہ پنجاب میں ہی جمع ہو سکتا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس جدوجہد میں بہت کچھ روپیہ بھی صرف کرنا پڑے گا اور بغیر ایک زبردست فنانشل کمیٹی کے جس پر ملک اعتبار کر سکے کسی بڑے چندہ کی تحریک کرنا یقیناً مہلک ثابت ہوگا- میں امید کرتا ہوں کہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب‘ شیخ دین محمد صاحب‘ سید محسن شاہ صاحب اور اسی طرح دوسرے سربرآوردہ ابنائے کشمیر جو اپنے وطن کی محبت میں کسی دوسرے سے کم نہیں ہیں‘ اس موقع کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے موجودہ طوائف الملوکی کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے ورنہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سب طاقت ضائع ہو جائے گی اور نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا- (الفضل ۱۶- جولائی ۱۹۳۱ء)