انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 99

۹۹ طرح چاہتی ہیں کرتی ہیں اور پھر اپنے منشاء کے مطابق اپنے فعل کی تشریح کر کے دنیا کے سامنے پیش کر دیتی ہیں- چوتھے حکومت ہند ریاستوں کے معاملہ میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان کر چکی ہے اور ان کی اس پالیسی کی تائید مسلمان بھی کر چکے ہیں- پس حکومت ہند پر اس معاملہ میں زور دینا کوئی معمولی کام نہیں ہوگا اور ہمیں نہایت غور کے بعد کوئی ایسی راہ تلاش کرنی پڑے گی کہ ہمارا اصول بھی نہ ٹوٹے اور ہمارا کام بھی ہو جائے- پس ان حالات میں ہمیں اپنا پروگرام ایسی طرز پر بنانا ہوگا کہ کشمیر کے مسلمانوں کی ہمت بھی قائم رہے اور حکومت ہند پر بھی ہم زور دے سکیں اور کوئی ایسی بات بھی ہم سے صادر نہ ہو جس کا اثر ہمارے بعض دوسرے اصولوں پر جو مسئلہ کشمیر سے کم اہم نہیں ہیں پڑتا ہے اور ایسا پروگرام آل انڈیا کانفرنس کے بعد ہی مقرر کیا جا سکتا ہے- ہندوستان بھر کے چوٹی کے لیڈروں کی کانفرنس کی ضرورت میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے بعض دوست یہ خیال کر رہے ہیں کہ محض ان شکایات کو پیش کر دینا اور کرتے رہنا جو جموں اور کشمیر کے مسلمانوں کو ریاست سے ہیں‘ ہمارے لئے کافی پروگرام ہے حالانکہ یہ درست نہیں- اس سوال میں بعض ایسی پیچیدگیاں ہیں کہ اخبارات کے صفحات پر بھی ہم ان کو نہیں لا سکتے- اور میں ان مسلمانوں کو جو جوش تو رکھتے ہیں لیکن کسی نظام کے ماتحت کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں‘ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر کافی غور و فکر کے بعد اور وسیع مشورہ کے بعد اس کا پروگرام تیار نہ کیا گیا تو آئندہ بعض ایسے سوالات پیدا ہو جائیں گے جن کا حل ان کے امکان سے باہر ہوگا- لیکن اس وقت پچھتانے سے کچھ حاصل نہ ہو سکے گا اور مسلمانوں کو بعض ایسے نقصانات پہنچ جائیں گے جن کا خیال کر کے بھی دل کو تکلیف ہوتی ہے- پس میں پھر ایک دفعہ ان ذمہ دار لیڈروں کو جو برطانوی ہند کی کشمیری برادری میں رسوخ رکھتے ہیں‘ توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ایک نہایت محدود لیکن ہندوستان بھر کے چوٹی کے لیڈروں کی ایک کانفرنس کسی ایسے مقام پر جہاں جموں اور کشمیر کے مسلمان بھی آ سکیں منعقد کریں تا کہ اس موقع پر ان تمام مشکلات پر غور کر کے جو ہمارے رستے میں حائل ہیں‘ ایک ایسا پروگرام تیار کیا جائے جس پر عمل کر کے بغیر کسی نئی پیچیدگی کے پیدا ہونے کے ہم مسلمانان کشمیر کی آزادی کے مسئلہ کو حل کر سکیں-