انوارالعلوم (جلد 12) — Page 98
۹۸ اس لئے سوائے جوش و خروش کے اور کوئی حقیقی فائدہ ان مظاہروں سے حاصل نہیں کیا جا سکے گا- اور انگریزی علاقہ میں جوش و خروش کا خالی مظاہرہ سینکڑوں میل دور بیٹھے ہوئے ریاستی حکام پر کسی صورت میں اثر نہیں ڈال سکتا- میں نے تو اس مشکل کا حل یہ کیا کہ دس جولائی کو اپنی جماعت کا جلسہ کرا دیا تا کہ ہمارے پشاور کے دوستوں کی تحریک رائیگاں نہ جائے اور دشمنوں کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کی بات کا احترام کرنے کیلئے تیار نہیں لیکن چوبیس اور اٹھائیس جولائی کی تاریخوں کی مشکل ابھی سامنے ہے- میں نہیں سمجھتا کہ جب جمعیہ العلماء کانپور نے ۲۸- تاریخ مقرر کر دی تھی تو لاہور کی لوکل کمیٹی کو کیا ضرورت پیش آئی تھی کہ وہ نئی تاریخ مقرر کرتی- اگر حقیقی مشکل ہمارے رستے میں ہو سکتی تھی تو یہ کہ تاریخ بہت قریب مقرر کی گئی- مگر حقیقت یہ ہے کہ کانپور کی تاریخ پہلے مقرر ہو چکی تھی اور پھر وہ لاہور کی مقررہ تاریخ سے چار دن پیچھے کی تھی- اب اگر یو- پی والے ۲۸ کو اور پنجاب والے ۲۴ کو جلسے کریں یا خود پنجاب میں بھی مختلف اوقات میں جلسے ہوں تو اس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا- نظام ِکار تجویز کیا جائے ان حالات میں میں تمام ان ذمہ وار اشخاص کو جو یا تو نسلا کشمیری ہیں یا مسئلہ کشمیر سے ہمدردی رکھتے ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس کام کے کرنے کے لئے ایک نظام تجویز کریں- کوئی لوکل کمیٹی خواہ کتنے ہی بااثر آدمیوں پر مشتمل ہو‘ اس کام کو نہیں کر سکتی جب تک ایک آل انڈیا کانفرنس مسلمانوں کی اس مسئلہ پر غور نہ کرے گی اور اس کے لئے ایک متفقہ پروگرام تجویز نہ کرے گی اس سوال کا حل ناممکن ہے- ضروری باتیں ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ یہ سوال براہ راست برطانوی ہند کے باشندوں سے تعلق نہیں رکھتا اور ہمارے یہاں کے مظاہرے ریاست کشمیر پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتے- دوسرے باشندگان کشمیر ابھی تعلیم میں بہت پیچھے ہیں اور بوجہ اس کے کہ ان کو کسی قسم کی بھی آزادی حاصل نہیں‘ عوام الناس میں باقاعدہ جدوجہد کی بھی ہمت کم ہے- تیسرے ریاستوں میں اس طرح کی آئینی حکومت نہیں ہوتی جس طرح کی حکومت برطانوی علاقہ میں ہے- نہ ان کا کوئی قانون مقرر ہے نہ ان کا کوئی ریکارڈ ہوتا ہے- وہ جس