انوارالعلوم (جلد 12) — Page 97
۹۴ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم مسلمانان جموں و کشمیر کی حالت اور مسلمانوں کا فرض اس سے پہلے میں دو مضامین میں اس مسئلہ کی طرف مسلمانوں کی توجہ کو پھیر چکا ہوں لیکن جہاں تک میرا خیال ہے اب تک اس مسئلہ کی اہمیت اور اس کی باریکی کو مسلمان نہیں سمجھے- یہ تو شکر کا مقام ہے کہ عام طور پر مسلمانوں میں کشمیر کے مسلمانوں کی حالت کی طرف توجہ پیدا ہو گئی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑ دینا چاہئے اور سب مسلمانوں کو آزادی کی جدوجہد میں برادران کشمیر کی امداد کرنی چاہئے لیکن ابھی تک کوئی ایسا نظام قائم نہیں ہوا جس کے ماتحت کام کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلایا جا سکے- یومِ کشمیر منانے کی تحریک پچھلے دنوں ایک تحریک پشاور سے کی گئی کہ دس جولائی کو یوم کشمیر منایا جائے- دوسری تحریک کان پور سے کی گئی کہ اٹھائیس جولائی کو یوم کشمیر منایا جائے- اب ایک تیسری تحریک لاہور سے کی گئی ہے کہ ۲۴ تاریخ کو یوم کشمیر منایا جائے- اس قسم کے اختلاف کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسی کوئی تحریک بھی کامیاب نہ ہو سکے گی اور ہر ایک تحریک کے محرکوں سے تعلق رکھنے والے الگ الگ دنوں میں جلسے کر کے اس حقیقی فائدہ سے جو مظاہروں میں مقصود ہوتا ہے‘ محروم رہ جائیں گے نیز آپس میں شقاق بھی پیدا ہوگا ہر ایک محرک کو یہ احساس ہوگا کہ چونکہ دوسروں نے میری بات نہیں مانی‘ اس لئے میں ان کی کیوں مانوں- ایک اور بڑا بھاری نقص یہ ہوگا کہ چونکہ ابھی تک کام کا کوئی پروگرام مقرر نہیں ہوا-