انوارالعلوم (جلد 12) — Page 96
۹۶ گورنمنٹ ہند کو کشمیر کے مسلمانوں کے حالات سے آگاہ کرتا رہوں اور کشمیر کے حالات کے متعلق پارلیمنٹ میں سوال کرواتا رہوں- اس کے جواب میں مجھے یہ اطلاع بھی آ گئی ہے کہ وہاں بعض دوست ایسے حالات جمع کرنے میں مشغول ہیں جن سے ان مظالم کی نوعیت ظاہر ہو گی جو اس وقت کشمیر کے مسلمانوں پر روا رکھے جاتے ہیں- اس فہرست کے آتے ہی میں ایک اشتہار میں ان کا مناسب حصہ درج کر کے پارلیمنٹ کے ممبروں میں اور دوسرے سربرآوردہ لوگوں میں تقسیم کراؤں گا اور گورنمنٹ ہند کو بھی توجہ دلاؤں گا- غلاموں کو آزاد کراؤ اس وقت غلامی کے خلاف سخت شور ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ کشمیر کی لاکھوں کی آبادی بلا قصور غلام بنا کر رکھی جائے- آخر غلام اسی کو کہتے ہیں جسے روپیہ کے بدلے میں فروخت کر دیا جائے- اور کیا یہ حق نہیں کہ کشمیر کو روپیہ کے بدلے میں حکومت ہند نے فروخت کر دیا تھا- پھر کیا ہمارا یہ مطالبہ درست نہیں کہ جب کہ انگریز عرب اور افریقہ کے غلاموں کے آزاد کرانے کی کوشش کر رہے ہیں‘ وہ ان غلاموں کو بھی آزاد کرائیں جن کی غلامی کا موجب وہ خود ہوئے ہیں- میں سمجھتا ہوں ہر ایک دیانتدار آدمی اس معاملہ میں ہمارے ساتھ ہوگا- بلکہ میرا تو یہ خیال ہے کہ خود مہاراجہ سر ہری سنگھ صاحب بھی اگر ان کے سامنے سب حالات رکھے جائیں تو اس ظلم کی جو ان کے نام سے کیا جا رہا ہے‘ اجازت نہ دیں گے اور مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق دے کر اس فیڈریشن کے اصل کو مضبوط کریں گے جس کی وہ تائید کر رہے ہیں- ورنہ کشمیر جیسے غلام ملک اور آزاد ہندوستان میں فیڈریشن کیسی؟ مہاراجہ صاحب خواہ کس قدر عقلمند ہوں وہ یہ امید نہیں کر سکتے کہ ہم باشندگانہندوستان اس امر کو پسند کریں گے کہ مہاراجہ صاحب خود ہی چار پانچ ممبر اپنی طرف سے مقرر کر کے بھجوا دیں اور ہم لوگ ان کی رائے کو اہل کشمیر کی رائے قرار دے کر اس کو وہی عظمت دیں جو کئی لاکھ آبادی والے ملک کے نمائندوں کی رائے کو حاصل ہونا چاہئے- (الفضل ۲- جولائی ۱۹۳۱ء)