انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 68

۶۸ سے اس وقت تک سترہ سالہ پبلک زندگی میں ایک دفعہ بھی مجھے شرمندہ ہونے کا موقع پیش نہیں آیا اور مجھے اپنے فیصلہ کے بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور جلد یا بدیر لوگوں کو میرے نقطئہ نگاہ کی صحت تسلیم کرنی پڑی ہے- اپنے علم اور اپنے تجربہ کو دیکھتے ہوئے میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا ہے ورنہ چونکہ میری صحت خراب ہے اس کے اثر کے نیچے بالکل ممکن تھا کہ اگر خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو میری تقریر اور تحریر میں جلدبازی اور چڑ چڑے پن کا اثر پایا جاتا- بہرحال دوست اور دشمن اس امر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے کہ میں محتاط آدمی ہوں اور اندھا دھند اعلان کرنے کا عادی نہیں حتیٰ کہ بعض دوست مجھ پر کمزوری کا الزام لگاتے ہیں- پس حکومت اور دشمنان اسلام کو میں اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ میرے نقطئہ نگاہ کو اچھی طرح سمجھ لیں- جو یہ ہے- بین الاقوام معاملات میں حکومت کا رویہ میرا خطبہ بیان کردہ ۲۷- مارچ ۱۹۳۱ء اس امر کے متعلق ہے کہ حکومت کا رویہ بینالاقوامی معاملات میں انصاف پر مبنی نہیں بلکہ ضرورت وقتی پر مبنی ہے اور یہ بات نہایت قابل افسوس ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کو مصلحت وقت کے مطابق کام کرنا ایک حد تک ضروری ہوتا ہے لیکن یہ اسی وقت تک جائز ہے جب تک کہ کسی قوم یا فرد پر ظلم نہ ہوتا ہو- جب کسی فعل سے کسی فرد یا قوم پر ظلم ہوتا ہو تو ایسا فعل مصلحت وقت کے ماتحت نہیں بلکہ سیاسی پالیسی کے ماتحت کہلائے گا اور مجھے افسوس ہے کہ بین الاقوام معاملات میں گورنمنٹ کا رویہ دلیرانہ اور منصفانہ نہیں بلکہ سیاسی پالیسی کے ماتحت ہوتا ہے- جو قوم زیادہ شور مچائے اور گورنمنٹ کو زیادہ تنگ کر سکے گورنمنٹ اس کے ساتھ مل جاتی ہے- آریہ لوگ پنجاب میں زیادہ شور مچاتے ہیں اور حکومت ہمیشہ ان سے دبتی ہے اور اس وقت حکومت کے دفاتر اور اس کی پالیسی پر وہی قابض ہیں- کانگریس نے شور مچایا اور حکومت اس کے آگے اس قدر گری کہ اس کے ساتھ تعاون کرنے والے لوگ اپنے دلوں میں شرمندگی اور ذلت محسوس کرتے ہیں- انگریزوں کی خوبیاں میرا ہمیشہ سے یہ خیال ہے اور اب تک ہے کہ انگریزوں میں بہت سی خوبیاں ہیں اور ان کی وجہ سے میں ان کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ انگریز ابھی اس ملک میں بہت سے مفید کام کریں گے اور