انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 56

۵۶ ہونی ضروری ہے وہاں اس کے ساتھ ہی اس کی بنیاد عقل پر بھی ہونی ضروری ہے- میاں بیوی کے حقوق‘ طلاق‘ کثرت ازدواج‘ بچوں کی تربیت اور ان پر ماں باپ کے تصرف کی حد بندی‘ ورثہ اس میں مختلف رشتہ داروں کے حقوق کی تعیین‘ یہ سب ایسے امور ہیں جن میں اس قانون کو ملحوظ رکھ کر ایک ایسا درمیانہ طریق اختیار کیا جا سکتا ہے کہ جس سے نہ جذبات کو ٹھیس لگے اور نہ عقل کو جواب دیا جائے اور اسلام نے ایسا ہی کیا ہے گو جذبات کے طوفان کے وقت اس تعلیم کو قابل اعتراض قرار دیا گیا ہے لیکن سکون کی ساعتوں میں دنیا اس طریق کی برتری کو قبول کرنے پر مجبور ہوتی رہی ہے- ۱۶- سلسلہ احمدیہ کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ عورت و مرد مشرقی اور مغربی سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک ہیں- سب کیلئے خدا تعالیٰ کے قرب اور ابدی زندگی کے دروازے کھلے ہیں- پس ان کے تعلقات کی بنیاد ایسے اصول پر ہونی چاہئے کہ ایک دوسرے کیلئے تکلیف کا موجب نہ ہوں اور ہر ایک کیلئے ترقی کے دروازے کھلے رہیں اور کوئی کسی پر ناجائز حکومت نہ کرے- ۱۷- سلسلہ احمدیہ کی ایک تعلیم یہ بھی ہے کہ انسان کی جزاء کی اصل بنیاد اعمال پر نہیں بلکہ اس کی قلبی حالت پر ہے اس وجہ سے دنیا میں نیکی کو مضبوط کرنے کیلئے ضروری ہے کہ سب سے زیادہ دل کی پاکیزگی پر زور دیا جائے کیونکہ جب تک خیالات میں نیکی نہ ہو حقیقی نیکی حاصل نہیں ہو سکتی اور خیالات چونکہ جبر اور زور سے تبدیل نہیں ہو سکتے بلکہ دلیل اور مشاہدہ اور نمونہ سے تبدیل ہوتے ہیں اس لئے سلسلہ احمدیہ اس امر پر زور دیتا ہے کہ مذہب کیلئے جنگ یا جبر بالکل جائز نہیں- کیونکہ جبر سے صرف ظاہر تبدیل ہو سکتا ہے اور جس کا ظاہر و باطن ایک نہ ہو وہ منافق ہے- پس جو شخص مذہب میں جبر سے کام لیتا ہے وہ منافقت پھیلانے کا موجب ہے اور بجائے نیکی کی اشاعت کے بدی کی اشاعت کا مرتکب ہے اور اپنے عمل سے اپنے مقصد کو نقصان پہنچاتا- ہے اس عقیدہ کے ماتحت ہماری جماعت نے ہر ملک میں مذہب کے بارہ میں جبر کی مخالفت کی ہے اور ہمارے بعض آدمیوں نے اس پاک تعلیم کی حفاظت میں جو نیکی کے قائم کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے اپنی جانیں تک قربان کر دی ہیں- اور گو جبر کے مویدین نے انہیں سنگسار کر کے نہایت تکلیف اور ایذاء سے قتل کیا مگر وہ آخر دم تک اپنے عقیدہ پر قائم رہے- ۱۸- سلسلہ احمدیہ کی سیاسیات کے متعلق یہ تعلیم ہے کہ حکومت اور رعایا کے تعلقات کی بنیاد قانون کے احترام اور پر امن جدوجہد پر ہونی چاہئے اور فساد سے دونوں کو پرہیز کرنا