انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 55

۵۵ دبائیں اور مار دیں‘ بلکہ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم انہیں خدا تعالیٰ کی صفات کی طرح موقع اور محل پر استعمال کریں- اس عقیدہ سے وہ جنگ جو قدیم سے دین اور دنیا میں چلی آئی ہے ختم ہو جاتی ہے- کیونکہ اس عقیدہ کے ماتحت مادی طاقتیں روحانی طاقتوں کے مخالف نہیں قرار پاتیں بلکہ روحانی طاقتوں کے پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں اور ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی ترقی کیلئے کوشش کرتے ہوئے انسان دین کا بھی کام کر سکتا ہے اور کرتا جاتا ہے- ۱۴- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے اور یہ عقیدہ اوپر کے عقیدہ کا لازمی نتیجہ ہے کہ انسانوں کے باہمی معاملات کی بنیاد اصلاح پر ہونی چاہئے نہ کہ کسی غیر لچکدار فلسفی اصل پر- کیونکہ انسان کے اعمال درحقیقت تبدیل ہونے والی شئے ہیں اور مختلف حالتوں میں ان کی قیمت مختلف ہوتی ہے- ایک وقت میں ایک کام برا اور دوسرے وقت میں وہی اچھا ہو سکتا ہے- ہم ایک تندرست کو جو غذا دے سکتے ہیں بیمار کو نہیں دے سکتے- اسی طرح ہم سب لوگوں سے ایک ہی قسم کا معاملہ نہیں کر سکتے کیونکہ کسی نے اپنے اخلاق کو کسی طرح ڈھالا ہے اور کسی نے کسی طرح- پس اگر ہم خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ موقع اور محل کے مطابق ہمارے اعمال ظاہر ہوں اور ہماری اصل غرض اصلاح ہو اور اگر کوئی شخص پیار سے ماننے والا ہو تو ہم اسے باوجود ناراضگی کے اور غصہ میں آ جانے کے پیار سے سمجھائیں اور اگر کوئی شخص سزا سے ماننے والا ہو تو ہم اسے اس کے جرم اور اس کی طبیعت کی سختی کے مطابق سزا دے کر اسے سمجھائیں کیونکہ اصل غرض اصلاح ہے جو مریض کی حالت کے مطابق ہی ہو سکتی ہے اگر اس کی حالت کو نظر انداز کر دیں تو اصلاح ناممکن ہے- ۱۵- سلسلہ احمدیہ کا ایک یہ بھی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جس قدر صفات پیدا کی ہیں ضروری ہیں اور ان صفات کے سرچشمے یعنی عقل اور جذبات کا ہر کام میں لحاظ رکھنا ضروری ہے- تمام تمدنی اور سیاسی خرابیاں اسی سے پیدا ہوتی ہیں کہ باہمی معاملات میں یا عقل کو ترک کر دیا جاتا ہے یا جذبات کو یا ان کی صحیح نسبت قائم نہیں رکھی جاتی- عورت و مرد کے تعلقات کو عام طور پر جذبات پر مبنی رکھا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے نقصان ہوتا ہے حالانکہ کوئی عورت و مرد دنیا سے الگ نہیں ہو سکتے- وہ دنیا کا ایک حصہ ہیں اور انہیں اپنے حصہ ہونے کی حقیقت کو نہیں بھولنا چاہئے- پس جہاں ان کے تعلقات کی بنیاد جذبات پر