انوارالعلوم (جلد 12) — Page 38
۳۸ تحفہ لارڈ ارون ہے پس باوجود اس کے کہ انگلستان میں ہماری جماعت کی طرف سے ایک نائب رہتا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ ہمارے سلسلہ سے عموماً اور انگلستان کی جماعت احمدیہ سے خصوصاً دلچسپی رکھیں گے ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم ہندوستان کے احمدی آپ کو کلی طور پر الوداع کہہ رہے ہیں اور اس وجہ سے ہم چاہتے ہیں کہ اس موقع پر آپ کی عظیم الشان کامیابیوں پر آپ کو مبارک باد کہنے کے علاوہ چند خواہشات کا بھی اظہار کریں- ہم امید کرتے ہیں کہ وہ کام جسے آپ نے بعض وقت اپنی سیاسی عزت کو خطرہ میں ڈال کر سر انجام دیا ہے اس کی تکمیل میں آپ انگلستان پہنچ کر پہلے سے بھی زیادہ سرگرم رہیں گے- ہماری مراد اس سے آزادی ہند کا کام ہے جس کی خواہش میں ہم کسی طرح کانگریس یا دوسری جماعتوں سے پیچھے نہیں کیونکہ اپنے ملک کی غلامی سوائے بیوقوف یا غدار کے کوئی شخص پسند نہیں کر سکتا- لیکن ایک امر ہے جس کی طرف ہم آپ کی توجہ پھرانی چاہتے ہیں اور وہ یہ ہے- برطانیہ سے دانستہ یا نادانستہ مسلمانوں کو اس ملک میں سخت نقصان پہنچا ہے- مسلمانوں کی حکومت انگریزی حکومت کے قیام سے طبعا تباہ ہو گئی ہے- اسلامی ریاستیں جیسے کرناٹک‘ بنگال‘ اودھ‘ میسور‘ جھجھر اور سندھ وغیرہ ہیں انگریزی حکومت کے قیام سے مٹ گئی ہیں بلکہ مسلمانوں کا تمدن اور ان کی قومیت بھی انگریزی حکومت کے قیام سے تباہ ہو گئی ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریزوں کے ہندوستان میں طاقت پکڑنے سے پہلے اسلامی مرکزی حکومت کمزور ہو گئی تھی اور جنوب میں مرہٹے سر اٹھا رہے تھے اور پنجاب میں سکھ لیکن مرہٹوں کو احمدشاہ ابدالی کچل چکا تھا اور سکھ تھوڑا عرصہ اپنی شان دکھا کر خانہ جنگی میں مصرورف ہو گئے تھے- میسور اور حیدر آباد نئی امنگوں کے ساتھ اٹھ رہے تھے اور غالب گمان تھا کہ اگر انگلستان کا قدم درمیان میں نہ آتا تو چند سال میں ایک نئی زبردست اسلامی حکومت اسی طرح ہندوستان میں قائم ہو جاتی جس طرح مغلوں سے پہلے بارہا ہو چکی تھی- پس انگلستان کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب انگلستان ہندوستان کو آزادی دیتا ہے تو وہ ہندوؤں کو اس حالت سے سینکڑوں گنے قوی چھوڑ کر جاتا ہے جس حالت میں کہ اس نے انہیں پایا تھا اور مسلمانوں کو اس حالت سے سینکڑوں گنے کمزور کر کے جاتا ہے جس حالت میں کہ اس نے انہیں پایا تھا- کیا ان حالات کو دیکھتے ہوئے یہ امر بعید از عقل ہو گا اگر مسلمانوں کے دل انگلستان کی محبت سے اس قدر لبریز نہ