انوارالعلوم (جلد 12) — Page 604
۶۰۴ سفارش کروں تب مدد کی جائے- کہتے ہیں- اس طرح آپ کو دعا کرنے کی تحریک ہو گی مگر میں کسی مومن کے متعلق یہ توقع ہی نہیں رکھتا کہ جب وہ اپنے کسی بھائی کے کام آ سکتا ہو تو کام نہ آئے- لیکن ایک اور بات ہے اور وہ یہ کہ ایک طبقہ ایسا ہے جو سفارش میں خلافت کو بھی کھینچ کر لانا چا ہتا ہے- یہ بہت گری ہوئی اور نہایت قابل نفرت بات ہے- خلافت نبوت کی نیابت ہے اور نبوت خدا کی نیابت ہے پس خلیفہ کو ایسی جگہ کھڑا کرنا جہاں اس کی گردن نیچی ہو‘ بہت بڑی ہتک ہے- ہم دنیوی لحاظ سے بادشاہ کی اطاعت کرتے ہیں مگر یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خلیفہ کا درجہ تمام دنیا کے بادشاہوں سے بڑا ہے- اگر کوئی یہ نہیں یقین رکھتا تو وہ محمد ﷺ کی رسالت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مسیحیت سے واقف نہیں- خلیفہ کے پاس اس لئے آنا کہ ڈپٹی کمشنر یا کسی مجسٹریٹ کو سفارش کرائی جائے- اس کا مطلب یہ ہے کہ خلیفہ کی ان حکام کے سامنے نظر نیچی کرائی جائے اور اگر اس حد تک خلیفہ کی سفارش لے جائیں تو پھر خدا تعالیٰ پر توکل کہاں رہا- جو شخص کسی مجسٹریٹ کے لئے سفارش چاہتا ہے اسے تو میں مجرم سمجھتا ہوں- میں نے جب یہ رکھا ہے کہ اپنی جماعت کے کسی قاضی کے متعلق اگر مجھے یہ معلوم ہوا کہ اس نے کسی معاملہ میں کسی کی سفارش قبول کی ہے تو میں اسے نکال دوں گا تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کسی مجسٹریٹ سے خود سفارش کروں- بعض دفعہ کر دیتا ہوں مگر وہ اور رنگ کی سفارش ہوتی ہے- مثلاً یہ کہ مقدمہ کا جلدی تصفیہ کر دیا جائے- اس قسم کی سفارش میں نقص نہیں مگر یہ کہ فلاں کے حق میں فیصلہ کیا جائے یہ نہیں ہو سکتا- ایک شخص نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میرا کیس اتنا اہم ہے کہ خلیفہ کو خود گورنر کے پاس جا کر کہنا چاہئے کہ فیصلہ میرے حق میں ہو- ایک شخص نے کہا- ہمارے علاقہ میں تبلیغ کا بڑا موقعہ نکلا ہے اور وہ یہ کہ مجھے نمبردار بنوا دیا جائے- میں متنبہ کرتا ہوں کہ اس قسم کی سفارشات چاہنا خلافت کی ہتک ہے اور اسے جاری نہیں رہنا چاہئے- اس قسم کے کاموں کے لئے مجھے مت کہا کرو بلکہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو نہ کہا کرو اور خدا تعالیٰ پر توکل کرو- جب ہمارے آپس کے ایسے تعلقات نہ تھے اس وقت کون حفاظت کرتا تھا- خدا پر ہی توکل کرو تا کہ کسی مشکل اور مصیبت کے وقت خود خدا تمہاری سفارش کرنے والا ہو- سلسلہ کی مذہبی ضروریات اب میں مذہبی ضروریات کو لیتا ہوں- یہ ضرورتیں دو قسم کی ہیں- اول بِلاواسطہ اثر