انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 18

‏ ۱۸ ندائے ایمان اور کسی زمانہ میں آسمان سے اتر کر لوگوں کو اپنا تابع بنائیں گے- آہ! یہ لوگ کبھی خیال نہیں کرتے کہ وہ رسول جس کے احسانوں تلے ان کا بال بال دبا ہوا ہے اور جسے خدا تعالیٰ نے سب انسانوں سے افضل قرار دیا ہے اور جو اپنی قوت قدسیہ میں کیا ملائکہ اور کیا انسان سب پر فضیلت لے گیا ہے اس ذریعہ سے وہ اس کی ہتک کرتے ہیں اور ایک ایسے شخص کو جو اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتا تو آپ کی غلامی میں فخر محسوس کرتا آپ کے وجود پر فضیلت دیتے ہیں- یہ امر ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی شخص نے خدا تعالیٰ کے دین کیلئے تکلیف نہیں اٹھائی- آپ مکہ میں تیرہ سال تک ایسی تکلیفات برداشت کرتے رہے ہیں کہ ایسی تکلیفات کا ایک سال تک برداشت کرنا بھی انسان کی کمر توڑ دیتا ہے اور آپ کے اتباع اور جاں نثار مرید بھی ناقابل برداشت ظلموں کا تختہ مشق بنے رہے ہیں- اس کے مقابل پر مسیح علیہ السلام اور ان کے حواریوں کی قربانیاں کیا ہستی رکھتی ہیں- وہ اپنی جگہ کتنی ہی شاندار کیوں نہ ہوں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے مقابلہ میں کچھ بھی قیمت نہیں رکھتیں- اول تو حضرت مسیحؑ کا زمانہ تبلیغ ہی کل تین سال بتایا جاتا ہے- پھر اس قلیل زمانہ میں بھی سوائے دو چار گالیوں اور ہنسی مذاق کے اور کوئی تکلیف نہیں جو ان کے مخالفوں نے انہیں دی ہو- لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی وقت میں تین سال تک ایک تنگ وادی میں محصور رکھا گیا‘ کھانا پینا بند کیا گیا‘ آپ سے خرید فروخت کرنیوالوں پر ڈنڈ مقرر کیا گیا- غرض اس قدر دکھ دیئے گئے کہ آپ کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہؓ ان تکالیف کی سختی کی وجہ سے بیمار ہو کر فوت ہو گئیں- کھانے کی تنگی کی وجہ سے آپ کے صحابہؓ فرماتے ہیں کہ ہم پتے کھانے پر مجبور ہوتے تھے جس کی وجہ سے بکری کی مینگنیوں کی طرح ہمیں پاخانہ آتا تھا- بیسیوں دفعہ آپ کی اور آپ کے اتباع کی جانوں پر حملے کئے گئے‘ پتھر مارے گئے‘ گلا گھونٹا گیا‘ غلاظتیں پھینکی گئیں‘ غرض کون سی تکلیف تھی جو آپ پر نہ آئی ہو‘ لیکن باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی ارشاد ہوتا رہا کہ فاصبر کما صبر اولوالعزم ۱؎ جس طرح ہمارے پکے ارادے والے بندے صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح تو بھی صبر سے کام لے اور استقلال کے ساتھ اپنے دشمنوں کا مقابلہ کر- لیکن کیا یہ عجیب بات نہیں کہ باوجود ان حالات سے واقف ہونے کے مسلمان کہلانے والے اور علم کا دعویٰ کرنے والے یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو جب سولی پر لٹکانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے جھٹ کسی اور شخص کو ان کی شکل کا بنا کر یہودیوں کے ہاتھ میں