انوارالعلوم (جلد 12) — Page 596
۵۹۶ چاہئے- عقل اور جنون کے درمیان بہت باریک پردہ ہوتا ہے- ایک وفعہ کوئی شخص کسی برے قتل کا ارتکاب کر لے تو دوسری دفعہ اس کے کرنے میں اس کے لئے اتنا حجاب نہ رہے گا جتنا پہلے ہو گا اسی طرح جو لوگ قتل کے مرتکب ہوتے ہیں ان کے نفس پر دوسروں کا خوں بہانا قابو پا لیتا ہے اور پھر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر قتل کرنے لگ جاتے ہیں- اسلام کا حکم اور بانی اسلام کا عمل اس نقص کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلام نے دشمن پر حملہ کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اندفاع کا حکم دیا ہے- ساری عمر رسول کریمﷺ نے صرف ایک دفعہ دشمن پر حملہ اور وہ بھی اس وقت جبکہ وہ آپ کے سر پر پہنچ گیا- صحابہؓ نے اس کا مقابلہ کرنا چاہا مگر آپ نے ان کو روک دیا اور فرمایا- اسے آنے دو- جب وہ قریب آیا تو آپ نے اسے نیزہ ذرا سے چھبو دیا- اس پر وہ بھاگا اور جب اس سے پوچھا گیا کہ کیوں بھاگے- تو اس نے کہا- ساری دنیا کی آگ اس چھوٹے سے زخم میں بھر دی گئی ہے- تو رسول کریمﷺ نے ساری عمر میں کبھی کسی کی جان نہ لی بلکہ جب مجرموں کے قتل کا سوال سامنے آیا تو آپ نے فرمایا- اگر یہ لوگ معانی مانگ لیتے یا سفارش کراتے تو میں انہیں چھوڑ دیتا- پوری طرح مقابلہ کرنے کی ضرورت میرے نزدیک انارکسٹ قوم کے اخلاق کو کچلنے والے ہیں اور اس چیز کو کچلنے والے ہیں جسے قائم کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو قائم کیا ہے اس لئے انگریزوں سے زیادہ ہمیں اس تحریک کے متعلق فکر کرنا چاہئے- انگریزوں کو تو اپنی جان ہی کی فکر ہے- لیکن ہمیں لوگوں کی روح کی فکر ہے پس ہمیں اس تحریک کا پوری طرح مقابلہ کرنا چاہئے- قاتل اور ڈاکو حکومت نہیں کر سکتے پھر یاد رکھنا چاہئے دنیا میں قاتل اور ڈاکو حکومت نہیں کر سکتے- اگر فاتح ہو جائیں تو ان کی فتح عارضی ہوتی ہے وہ حکومت ہرگز قائم نہیں رکھ سکتے اس لئے جن لوگوں نے قتل و خونریزی کی راہ اختیار کر رکھی ہے وہ ہندوستان کے دوست نہیں بلکہ بہت بڑے دشمن ہیں- ان کے ذریعہ ہندوستان میں قومی حکومت قائم نہ ہو گی بلکہ ہندوستان کو تباہی و بربادی کا سامنا کرنا پڑے گا- انگریزوں کا قصور میرے نزدیک اس بارے میں انگریزوں کا بھی قصور ہے- وہ ایسی پالیسی پر چلے ہوئے ہیں کہ صحیح طریق عمل اختیار کرتے ہوئے ڈرتے ہیں-