انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 12

۱۲ (۲) وانزلنا علیکم المن والسلوی کلوامن طیبت مارزقنکم ۷؎ اور ہم نے تم پر من اور سلویٰ اتارا تھا اور کہا تھا کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے‘ اس میں سے اعلیٰ اور پاکیزہ چیزوں کو کھاؤ- (۳) بخاری میں سعید بن زید کی روایت ہے- قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الکماہ من المن۸؎ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کھمب بھی ‘’من’‘ کی اقسام میں سے ہے- ترمذی میں ابوہریرہؓ سے روایت ہے- ان ناسا من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم قالوا الکماہ جدری الارض فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الکماہ من المن ۹؎ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے بعض لوگ اعراب کے توہمات کے مطابق باتیں کر رہے تھے کہ کھمب زمین کی چیچک ہے- نبی کریم ﷺ نے اس بات کو سن کر فرمایا کہ کھمب ‘’من’‘ کی اقسام میں سے ہے- اوپر کی آیات و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں مصر سے نہیں نکلے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں نکلے تھے- (۴) جو چیز ان کے کھانے کے لئے مہیا کی گئی تھی وہ غذا کے لحاظ سے اعلیٰ درجہ کی تھی اور ایسی نہ تھی جو غذائیت یا مزے کے لحاظ سے تکلیف دہ ہو- (۵) جو چیز بنی اسرائیل کو کھانے کے لئے ملی تھی وہ ایک چیز نہ تھی بلکہ کئی چیزیں تھیں اور ان کئی چیزوں میں سے ایک کھمب بھی تھی- یہ ایک نہایت عجیب بات ہے کہ ‘’من’‘ کا ذکر قرآن کریم میں تین جگہ پر آیا ہے ایک سورہ بقرہ میں ایک اعراف میں اور طہ میں اور تینوں جگہ اس کے ذکر کے بعد کلوامن الطیبت ۱۰؎ کا فقرہ ہے- جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس خیال کی تردید کرنا مقصود ہے کہ وہ کھانا طبیعت پر بوجھ ڈالنے والا یا غذائیت کے لحاظ سے ادنیٰ قسم کا تھا- ‘’جیسا کہ ہم لچن (LICHEN) کی جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے‘ تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی کھمب کی قسم کا پودہ ہے- چنانچہ انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا میں لکھا ہے- ‘’لچن اور کھمب کے اقسام بالکل آپس میں ملتے جلتے ہیں اور یہ امر ان اقسام کی مشابہت سے جو ایک دوسرے کی طبعی سرحد پر واقع ہیں بالکل ظاہر ہو جاتا ہے-’‘۱۱؎ لیکن یہ امر ظاہر ہے کہ لچن خود اچھا کھانا نہیں ہے بلکہ قحط کے ایام میں مجبوراً اسے لوگ