انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 535

۵۳۵ مارکیٹ میں لا کر اس لئے کھڑا کر دیتے کہ ہم نے اسے پال پوس کر جوان کیا ہے اب کون اس کی زیادہ قیمت دیتا ہے اور جو ان کی منشاء کے مطابق قیمت دے دیتا وہ لے جاتا لڑکی کو اس میں کوئی اختیار نہ تھا- ہمارے ملک میں بھی یہی رواج ہے- یہاں اگرچہ مارکیٹ میں تو نہیں لے جاتے مگر گھر میں قیمت لے لیتے ہیں- اگر کہو کہ لڑکی کو مارکیٹ میں لے جاؤ تو کہیں گے استغفراللہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے لیکن یوں گھر میں روپیہ لے لیں گے حالانکہ یہ حماقت ہے- اگر قیمت ہی لینی ہے تو زیادہ سے زیادہ لینی چاہئے- غالب نے کہا ہے- وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو یعنی اگر مجھے سر ہی پھوڑنا ہے تو اے معشوق تیرے دروازہ پر ہی کیوں پھوڑوں- جہاں چاہوں پھوڑ سکتا ہوں- اسی طرح اگر لڑکیوں کو بیچنا ہی ہو تو زیادہ قیمت پر مارکیٹ میں کیوں نہ لے جائیں- ہمارے ملک میں نوے فیصدی زمیندار لڑکیوں کو بیچتے ہیں اس کے لئے باقاعدہ سودا کرتے ہیں اور دو سو چار سو پانچ سو‘ ہزار غرض کہ جس قدر بھی قیمت مل سکے وصول کرتے ہیں- وہ اپنی لڑکیوں کے لئے اچھا خاوند تلاش نہیں کرتے بلکہ جو زیادہ پیسہ دے اور اس طرح بسا اوقات جوان لڑکیاں بوڑھوں سے‘ شریف بدمعاشوں سے‘ لائق نالائقوں سے اور عقلمند بیوقوفوں سے بیاہ دی جاتی ہیں- گویا ایک طریق زور سے شادی کر دینے کا تو یہ ہے کہ ماں باپ قیمت لے کر جہاں چاہیں لڑکی کو بیاہ دیں- اس کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایسے خاوند کی اگر موت بھی ہو جائے تو لڑکی آزاد نہیں ہو سکتی اسے خاوند کے بھائی یا کسی اور رشتہ دار سے بیاہ دیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے قیمت ادا کر کے اسے خریدا ہوتا ہے- اور بیوہ ہو جانے کی صورت میں اگر ماں باپ اسے اپنے گھر لاتے ہیں تو چوری یا کسی حیلہ سے کیونکہ بصورت دیگر جہاں لڑکی بیاہی ہوتی ہے وہ ادا کردہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس طرح ایسی لڑکی نہ صرف خاوند کی زندگی میں بلکہ اس سے آزادی کے بعد بھی قید ہی ہوتی ہے- دوسرا طریق یہ ہے جو ہندوؤں یا انگریزوں میں بھی رائج تھا کہ مرد جبر سے لے جائے- بڑے بڑے راجے مہاراجے اپنی لڑکیوں کو پیش کر دیتے کہ کون اسے چھین کر لے جاتا ہے اسے سوئمبر کی رسم کہا جاتا- بڑے بڑے راجے مہاراجے امیدوار ہو کر آتے- طاقتوں کا مظاہرہ کرتے اور جو سب کو مغلوب کر لیتا وہ اس لڑکی کا خاوند ہو جاتا- خواہ وہ بدصورت ہی ہو یا جاہل یا نقائص اخلاقی اپنے اندر رکھتا ہو- انگریزوں