انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 494

۴۹۴ ندائے ایمان (نمبر۳) ان کے جاہل سب شوق سے اس دن کا انتظار کر رہے تھے جب مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور ایک دفعہ پھر مسلمان رسول کریم ﷺ کے صحابی کہلانے کے مستحق ہو جائیں گے ایک دفعہ پھر خدا تعالیٰ کا نور ان میں چلتا پھرتا نظر آئے گا‘ ایک دفعہ پھر باوجود لمبے عرصہ کے گذر جانے کے وہ رسول کریم ﷺ کے بروز اور آپ کے روحانی فرزند کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر گویا خود رسول کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے‘ پھر اسلام کفر پر فخر کرے گا اور کفر اسلام کے سامنے شرمندگی سے سرجھکا لے گا- اور مسلمان کفار کو دیکھ کر کہیں گے اے جھوٹے مذاہب کے فریب میں آنے والو! دیکھو ہمارا زندہ مذہب وہ کس طرح ہر ضرورت پر پھل دیتا ہے اور اے مردہ راہنماؤں کی یاد میں رونے والو! دیکھو ہمارا رسول وہ کس طرح زندہ ہے اور کس طرح اس کا فیض اس کے روحانی فرزندوں کے ذریعہ سے ہر زمانہ میں جاری ہے- مسلمان اسی امید اور اسی آرزو میں بیٹھے تھے کہ حضرت مرزا غلام احمد علیہالسلام بانی سلسلہ احمدیہ نے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعویٰ کیا- سارے عالم اسلامی میں شور پڑ گیا کہ وہ جس نے آسمان پر سے آنا تھا زمین پر سے کس طرح ظاہر ہو گیا- اور جس نے بنی اسرائیل میں سے ظاہر ہونا تھا مسلمانوں میں کس طرح پیدا ہو گیا- تمام علماء نے آپ پر کفر کے فتوے لگائے اور کہا کہ یہ شخص رسول کریم ﷺ کی پیشگوئیوں کا منکر ہے اور اسلام کا دشمن لیکن تھوڑے ہی عرصہ میں جب آپ نے اور آپ کی جماعت نے قرآن کریم سے ثابت کر دیا کہ مسیح ناصری علیہالسلام فوت ہو چکے ہیں اور اب کوئی مسیح آسمان سے آنے والا نہیں اور مسلمان علماء نے جن کی نسبت رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ آخری زمانہ میں وہ سب لوگوں سے بدتر ہوں گے-۴؎ جب دیکھ لیا کہ مسیح کو زندہ رکھنا مشکل ہے اور اس میدان میں سلسلہ احمدیہ کا مقابلہ کرنا ناممکن تو انہوں نے جھٹ پہلو بدلا اور اب عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ہمیں کسی مسیح اور مہدی کی ضرورت نہیں رسول کریم ﷺ ہمارے لئے کافی ہیں- آج سے تیس سال پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ بانی سلسلہ احمدیہ کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ آسمان پر سے مسیح کے آنے کے منکر ہیں- آج یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کے بعد کسی مسیح کے آنے کے قائل ہیں- کیا رسول کریم ﷺ ہمارے لئے کافی نہیں؟ جن کی آنکھیں ہیں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ مشرق سے مغرب کی طرف تبدیلی صاف بتا رہی ہے کہ یہ شور اسلام کی خیر خواہی کی وجہ سے نہیں- بلکہ حضرت مسیح موعود