انوارالعلوم (جلد 12) — Page 467
۴۶۷ کیلئے آئے تو انکار نہ کرنا بلکہ وہ ہدایت جو ہم نے تجھے دی ہے اسے ساری دنیا میں پہنچانا- ضال کے جو معنی میں نے اس وقت کئے ہیں اس کے خلاف کوئی اور معنی ہو ہی نہیں سکتے- کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- ووجدک ضالا فھدی- ہم نے تجھے ضال پایا اور اس کے نتیجہ میں ہدایت دی- اور دوسری طرف فرماتا ہے- واللہ لا یھدی القوم الفسقین ۸۹؎کہ فسق کے نتیجہ میں کبھی ہدایت نہیں ملا کرتی- پھر ضال کے معنی گمراہ کس طرح کئے جا سکتے ہیں- پھر فرماتا ہے- و اذا جاء تھم ایة قالوا لن نومن حتی نوتی مثل ما اوتی رسل اللہ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ سیصیب الذین اجرموا صغار عنداللہ و عذاب شدید بما کانوا یمکرون- ۹۰؎جب ان کے پاس کوئی نشان آتا ہے تو وہ کہتے ہیں- ہم اسے نہیں مان سکتے- جب تک ہمیں ویسا ہی کلام نہ ملے جو رسولوں کو ملا- اللہ سب سے زیادہ جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے- یہ گناہگار لوگ ہیں- ان کو تو ذلت ہی ملے گی- اس آیت میں صاف طور پر بتا دیا کہ گناہ کے نتیجہ میں ذلت حاصل ہوتی ہے نہ کہ ہدایت- ذنب اور استغفار کی حقیقت پھر یہ جو کہا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نعوذ باللہ گناہگار تھے- اس کے لئے ذنب اور استغفار کے الفاظ پیش کئے جاتے ہیں- لیکن عام طور پر لوگوں نے اس کے معنی نہیں سمجھے- استغفار کے یہ معنی بھی ہوتے ہیں کہ جو مشکلات کسی کے رستہ میں حائل ہوں ان کو ڈھانپ دیا جائے- اسی طرح ذنب کے معنی گناہ کے بھی ہوتے ہیں اور غیر ضروری باتوں کے بھی- پس غفر کے معنی ڈھانکنے اور ذنب کے معنی زوائد کے ہیں- جب رسول کریم ﷺ کے متعلق استغفار کا لفظ آتا ہے تو اس سے مراد آپﷺ کے رستہ کی مشکلات کا دور ہونا ہوتا ہے- اور جہاں ذنب کا لفظ آتا ہے وہاں زوائد کا دور کیا جانا مراد ہوتا ہے- چنانچہ دیکھ لو سورہ نساء رکوع۱۶ میں پہلے جنگ کا ذکر ہے- پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- لا تکن للخائنین خصیما- واستغفراللہ ۹۱؎اے محمد رسول اللہ جب ہم حکومت دیں گے تو کچھ لوگ ایسے ہونگے جو دین کی باتوں میں خیانت سے کام لیں گے اور کجی کا راستہ اختیار کریں گے ان سے لڑنے کی طرف توجہ نہ کرنا- بلکہ بجائے اس کے خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنا کہ ان کی یہ کمزوری