انوارالعلوم (جلد 12) — Page 465
۴۶۵ نبوت کا سورج طلوع ہو کر نصف ا لنہار پر آگیا- تجھ پر وہ زمانہ بھی آیا- جب کہ تو دایہ کی گود میں تھا- پھر وہ زمانہ بھی آیا جو شباب کی تاریکی کا زمانہ ہوتا ہے- وہ زمانہ بھی آیا جب جذبات سرد ہو جاتے ہیں- پھر وہ زمانہ بھی آیا- جب کہ ہر طرف تیرے دشمن ہی دشمن تھے اور تیرے لئے دن بھی رات تھا- پھر وہ زمانہ آیا جب ساری قوم تجھے امین اور صادق کہتی تھی- ان سب زمانوں کو دیکھ لو- کیا کوئی وقت بھی ایسا آیا ہے جب خدا تعالیٰ نے تیری نصرت سے ہاتھ روکا ہو- اس کی ناراضگی کسی رنگ میں تجھ پر ظاہر ہوئی ہو- بعض لوگ آرام اور عزت حاصل ہونے پر بگڑ جاتے ہیں- مگر تجھے جب امن ہوا- امیر بیوی ملی- تیری قوم نے تیری عزت کی- اس وقت بھی تو نے اچھے کام کئے- پھر وہ زمانہ آیا کہ خدا نے اپنا کلام تجھ پر اتارا- تب بھی تو فرمانبردار رہا- گویا تیری ہر آنے والی گھڑی پہلی سے اعلیٰ اور بہتر رہی ہے- اور خدا کی تائید اور اس کی پسندیدگی بڑھتی چلی گئی- اب دیکھو رسول کریم ﷺ کی صداقت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے- عجیب بات ہے- خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ اس کی ساری زندگی بچپن سے لے کر آخر تک دیکھ لو- ایک لمحہ بھی اس کے لئے گمراہی کا نہیں آیا- اور خدا تعالیٰ نے اسے نہیں چھوڑا مگر نادان مخالف کہتے ہیں کہ آپ گمراہ تھے- اگر یہی گمراہی ہے تو ساری ہدایت اس پر قربان کی جا سکتیہے- پھر فرماتا ہے وللاخرةخیر لک من الاولی- تیرا ہر قدم ترقی کی طرف چلتا گیا- بچپن میں انسان بے گناہ ہوتا ہے- اگر نعوذ باللہ رسول کریم ﷺ بڑے ہو کر گمراہ ہو گئے تو آخرت اولیٰ سے سے بہتر نہ ہوئی- مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیری ہر اگلی گھڑی پہلے سے اچھی تھی- اور جب ہر اگلی گھڑی اچھی تھی تو ضلالت کہاں سے آ گئی- پھر فرماتا ہے ولسوف یعطیک ربک فترضی- ۸۳؎عنقریب اللہ تعالیٰ تجھے ایسے انعام دے گا کہ تو خوش ہو جائے گا- اس ¶کے متعلق ہم قرآن کریم سے دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی وہ کونسی خواہش تھی جس کے پورا ہونے سے آپ خوش ہو سکتے تھے- سورہ کہف رکوع۱ میں آتا ہے- فلعلک باخع نفسک علی اثار ھم ان لم یومنوا بھذا الحدیث اسفا ۸۴؎اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو اپنے آپ کو اس لئے ہلاک کر رہا ہے- کہ لوگ ہمارے کلام پر ایمان کیوں نہیں لاتے- یہ خواہش تھی رسول کریم ﷺ کی کہ آپﷺ کی قوم خدا تعالیٰ کے کلام کو مان لے- اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- ولسوف یعطیک