انوارالعلوم (جلد 12) — Page 441
۴۴۱ اور یہودیوں کی کتابوں میں کیا لکھا ہے- وہ عیسائی اور یہودی ہی تھے جو باتیں بنا کر ان کو دیتے تھے- چونکہ اب بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے اور اسے بہت اہمیت دی جاتی ہے اس لئے میں کسی قدر تفصیل سے اس کا جواب بیان کرتا ہوں- مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ جو کہا گیا ہے کہ اسے بشر سکھاتا ہے- اس بشر سے مراد جبر رومی غلام تھا- جو عامر بن حضرمی کا غلام تھا- اس نے تورات اور انجیل پڑھی ہوئی تھی- جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگ تکلیف دینے لگے تو آپﷺ اس کے پاس جاکر بیٹھا کرتے تھے- اس پر لوگوں نے یہ اعتراض کیا- دوسری روایتوں میں آتا ہے کہ فرا اور زجاج کہتے ہیں کہ حویطب ابن عبدالعزیٰ کا ایک غلام عائش یا یعیش نامی پہلی کتب پڑھا کرتا تھا- بعد میں پختہ مسلمان ہو گیا- اور رسول کریم ﷺ کی مجلس میں آتا تھا- اس کی نسبت لوگ یہ الزام لگاتے تھے- مقاتل اور ابن جبیر کا قول ہے کہ ابوفکیہ پر لوگ شبہ کرتے تھے ان کا نام یسار تھا- مذہباً یہودی تھے اور مکہ کی ایک عورت کے غلام تھے- بیہقی اور آدم بن ابی ایاس نے عبداللہ بن مسلم الحضرمی سے روایت لکھی ہے کہ ہمارے دو غلام یسار اور جبر نامی تھے دونوں نصرانی تھے اور عین التجر کے رہنے والے تھے- دنوں لوہار تھے- اور تلواریں بنایا کرتے تھے اور کام کرتے ہوئے انجیل پڑھا کرتے تھے- رسول کریم ﷺ وہاں سے گذرتے تو ان کے پاس ٹھہر جاتے- ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان میں سے ایک غلام سے لوگوں نے پوچھا- کہ انک تعلم محمدا فقال لا ھو یعلمنی- کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سکھاتے ہو؟ اس نے کہا- میں نہیں سکھاتا بلکہ وہ مجھے سکھاتا ہے- ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعجمی رومی غلام مکہ میں تھا- اس کا نام بلعام تھا- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسلام سکھایا کرتے تھے اس پر قریش کہنے لگے کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو سکھاتا ہے- ۳۷؎ مسیحی مورخ لکھتے ہیں کہ غالباً آپ نے بحیرہ راھب سے سیکھا تھا- چونکہ مسیحی تاریخوں میں بحیرہ کا کہیں پتہ نہیں ملتا- اس وجہ سے ابتداء تو وہ اس کے وجود سے ہی منکر تھے لیکن اب مسعودی کی ایک روایت کی وجہ سے وہ اس کو تسلیم کرنے لگے ہیں- اور اس اعتراض کے رنگ میں اس سے فائدہ اٹھانے لگے ہیں- وہ روایت یہ ہے کہ بحیرہ کو مسیحی لوگ سرگیس (SERGIUS)کہا کرتے تھے اور (SERGIUS) نامی ایک پادری کا پتہ مسیحی کتب میں مل جاتا ہے- پس اب وہ کہتے ہیں کہ اس شخص سے سیکھ کر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم)نے نعوذ