انوارالعلوم (جلد 12) — Page 439
۴۳۹ مشہور کرنا ہوتی ہے- مگر یہ تو کہتا ہے مثلکم میں تمہارے جیسا ہی انسان ہوں- پھر شاعر ان لوگوں کی مدح کرتا ہے جن سے اس نے کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے- مگر یہ تو کہتا ہے کہ میں تم سے کچھ نہیں لیتا- نہ کچھ مانگتا ہوں- پس شاعری اور اس کا لایا ہوا کلام آپس میں کوئی مناسبت نہیں رکھتے- سوم- پھر اس میں ذکر ہے حالانکہ شعر ذکر نہیں ہوتا- یعنی شاعر اندرونی جذبات کو ابھارتا ہے- شہوت اور حسن پرستی کا ذکر کرتا ہے- مگر یہ ایسی باتوں کی مذمت کرتا ہے- چہارم- پھر یہ ایسا کلام ہے جو فطرت کے اعلیٰ محاسن کو بیدار کر کے جن کی فطرت صحیح ہوتی ہے- انہیں بدیوں سے بچاتا ہے- اور جو مردہ ہوتے ہیں ان پر حجت تمام کرتا ہے- حالانکہ شاعر جذبات بہیمیہ کو ابھارتا ہے- پس اسے مجازی طور پر بھی شعر نہیں کہہسکتے- ساتواں اعتراض ساتواں اعتراض یہ کیا گیا کہ یہ معلم ہے- چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- انی لھم الذکری و قدجاء ھم رسول مبین- ثم تولوا عنہ و قالوا معلم مجنون-۳۴؎ فرمایا ان نامعقولوں کو کہاں سے نصیحت حاصل ہوگئی- حالانکہ ان کے پاس اعلیٰ درجہ کے معارف بیان کرنے والا رسول آیا- مگر یہ لوگ اس سے منہ پھیر کر چلے گئے- اور کہہ دیا کہ اسے کوئی اور سکھا جاتا ہے اور مجنون ہے- مطلب یہ کہ یہ ایسا نادان ہے کہ لوگ اس کو اس کے باپ دادا کے دین کے خلاف باتیں بتا جاتے ہیں اور یہ آگے ان کو بیان کر دیتا ہے- بعض لوگ رسول کریم ﷺ پر اعتراض کرتے تھے اور اب تک کرتے ہیں کہ قرآن نہ آپ پر نازل ہوا- نہ آپ نے بنایا بلکہ کوئی اور شخص ان کو سکھا دیتا تھا- مکہ والے کہتے تھے کہ مکہ کا ہو کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس طرح اپنی قوم کے بتوں کی مذمت کر سکتا ہے- اور ان کے مقابلہ میں دوسری قوم کے نبیوں کی تعریف کر سکتا ہے اسے کوئی اور اس قسم کی باتیں سکھا جاتا ہے- جب وہ حضرت موسیٰؑ کی تعریف قرآن میں سنتے تو کہتے کہ کوئی یہودی سکھا گیا ہے اور جب حضرت عیٰسیؑ کی تعریف سنتے تو کہتے کوئی عیسائی بتا گیا ہے- اس میں ان کو اس بات سے بھی تائید مل جاتی کہ قرآن کریم میں پہلے انبیاء کے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں- اس جگہ مجنوں حقیقی معنوں میں نہیں آیا- بلکہ غصہ کا کلام ہے کیونکہ معلم اور مجنوں یکجا نہیں ہو سکتے- مطلب یہ کہ پاگل ہے- اتنا نہیں سمجھتا کہ لوگ اسے اپنے مذہب اور قوم کے خلاف باتیں سکھاتے ہیں-